ریاض: سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور امریکی وزیر دفاع پینٹ ہیگسٹھ کے درمیان گزشتہ روز ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے دفاعی اور سٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو نیا عزم دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر سلامتی کے حوالے سے مشترکہ کوششوں کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان اور پینٹ ہیگسٹھ کے درمیان بات چیت کا بنیادی مقصد سعودی عرب اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا، جسے عالمی سطح پر اہمیت دی جارہی ہے۔ اس ٹیلی فونک رابطے میں دونوں وزرائے دفاع نے ایک دوسرے کی حکومتی پالیسوں اور عالمی چیلنجز کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔
ایس پی اے کے مطابق، سعودی وزیر دفاع اور امریکی وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ راستوں کی تلاش کی۔ اس میں دفاعی مشقوں، جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے امکانات پر بھی بات کی گئی۔
اس ٹیلی فونک رابطے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات کی مضبوطی کو علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ سعودی وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے زاویوں پر زور دیا، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ، خطے میں ایران کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں، اور دنیا بھر میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے حوالے سے۔
شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا امریکی وزیر دفاع کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اس بات چیت کے اختتام پر، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے دفاعی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوں گے۔ یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے اور ایک نیا عزم پیدا کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے شراکت دار کے طور پر عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کریں گے
