سعودی عرب کی بین الاقوامی امدادی تنظیم، شاہ سلمان ریلیف اینڈ ہیومنیٹیرین ایڈ سینٹر، دنیا بھر میں انسانی فلاح و بہبود کے سلسلے کو بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے، اور حالیہ دنوں میں تین مختلف ممالک میں اہم نوعیت کے منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ کمزور طبقات کو خود کفالت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
شاہ سلمان مرکز نے خیبر پختونخوا میں ایک قابلِ اعتماد سول سوسائٹی ادارے کے ساتھ ایک مشترکہ ترقیاتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد صوبے کے انتہائی پسماندہ خاندانوں کو روزگار کے قابل بنانا اور خوراک کی قلت پر قابو پانا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف فوری مدد فراہم کرے گا بلکہ ان افراد کی معاشی خود مختاری کے لیے دیرپا اثرات کا حامل ہوگا۔ اس معاہدے کی باقاعدہ منظوری شاہ سلمان مرکز کے آپریشنز اور پروگرامز کے اسسٹنٹ سپروائزر جنرل، انجینئر احمد بن علی البیز نے دی۔
یہ منصوبہ تقریباً 2,500 ضرورت مند خاندانوں پر محیط ہے جن کے مجموعی طور پر 17,500 افراد براہ راست مستفید ہوں گے، جب کہ اس کے بالواسطہ اثرات تقریباً 88,000 افراد کی زندگیوں پر مرتب ہوں گے۔ اس پروگرام کے تحت نہ صرف لائیوسٹاک اور پولٹری کی فراہمی کی جائے گی بلکہ مستحقین کو مویشیوں کی دیکھ بھال، افزائش نسل، اور بنیادی ویٹرنری تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مستقبل میں اپنی ضروریات خود پوری کر سکیں اور بیرونی امداد پر انحصار کم سے کم ہو۔
دوسری جانب، افریقی ملک سوڈان کی ریاست خرطوم میں خانہ جنگی اور سیاسی کشیدگی کے باعث نقل مکانی پر مجبور خاندانوں کے لیے شاہ سلمان مرکز نے 700 فوڈ باسکٹس تقسیم کیں جن سے تقریباً 7,041 متاثرین نے فائدہ اٹھایا۔ یہ اقدام سعودی مرکز کے فوڈ سکیورٹی پراجیکٹ 2025 کے تیسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ زدہ علاقوں میں قحط کا شکار افراد کو خوراک کی فوری فراہمی ہے۔
یمن کے حصر موت گورنریٹ میں، جو قدرتی آفات سے شدید متاثر ہوا، وہاں سعودی امدادی ادارے نے ہنگامی شیلٹر کٹس اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ فراہم کیں۔ اس مہم کے تحت 120 سے زائد افراد کو محفوظ رہائش اور ابتدائی زندگی بحالی میں مدد دی گئی، جو اس علاقے میں شدید متاثرہ افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
