ریاض: سعودی عرب کے کنگ سلمان ہیومینیٹرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹرنے افغانستان میں غذائی بحران کو کم کرنے کے لیے 2025-2026 کے دوران فوڈ سیکیورٹی اور ایمرجنسی سپورٹ پروجیکٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منفرد اور وسیع پیمانے پر شروع کیے گئے منصوبے کے تحت، سعودی عرب نے افغانستان واپس آنے والے افغان شہریوں کے لیے 5,000 فوڈ بیسکٹس مختص کیے ہیں۔
یہ پروجیکٹ سعودی عرب کی مسلسل عالمی انسان دوست سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد افغانستان میں خوراک کی کمی کا مقابلہ کرنا اور وہاں کے عوام کو ضروری امداد فراہم کرنا ہے۔ خاص طور پر ایران سے افغانستان واپس جانے والے افغان شہریوں کو اس پروگرام کے ذریعے خوراک کی فوری امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، منصوبے میں دیگر ایمرجنسی سپورٹ اقدامات بھی شامل ہیں تاکہ خوراک کے بحران کا مقابلہ کیا جا سکے اور افغان عوام کو غذائی تحفظ کی ضمانت دی جا سکے۔
کنگ سلمان ہیومینٹری ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے اس اہم پروجیکٹ کا آغاز سعودی عرب کے انسان دوستی کے عالمی مشن کو مزید تقویت دیتا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت ہمیشہ سے عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کے کاموں میں پیش پیش رہی ہے، اور اس پروجیکٹ کے ذریعے وہ ایک مرتبہ پھر دنیا کے سامنے اپنے قائدانہ کردار کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
کے ذریعے سعودی عرب کا مقصد نہ صرف افغانستان میں غذائی بحران پر قابو پانا ہے بلکہ عالمی سطح پر سعودی عرب کی انسان دوستی کی اقدار کو فروغ دینا اور اس کی عالمی امدادی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا بھی ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کے عزم کا غماز ہے کہ وہ عالمی سطح پر انسانی امداد کے محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ پروجیکٹ افغانستان کے لیے ایک نئی اُمید کی کرن ثابت ہو گا، جہاں عالمی ادارے اور حکومتیں افغان عوام کی مدد کے لیے یکجا ہو رہی ہیں۔ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی یہ کاوشیں ثابت کرتی ہیں کہ سعودی عرب ہمیشہ انسانیت کے مفاد میں پیش پیش رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
