سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں دنیا کے سب سے باوقار قرآنی مقابلوں میں سے ایک کا انعقاد ہفتے کے روز مسجد الحرام میں شروع ہونے جا رہا ہے، جہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے حفاظ، قراء اور مفسرین ایک روح پرور ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ عظیم اجتماع ’’پینتالیسواں شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی مقابلہ برائے حفظ، تلاوت و تفسیرِ قرآن‘‘ کہلاتا ہے، جو سعودی وزارت برائے اسلامی امور، دعوت و رہنمائی کی نگرانی اور انتظام میں منعقد ہو گا۔
اس سال اس مقابلے میں شریک ہونے والے ممالک کی تعداد نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ دنیا کے 128 ممالک سے ممتاز حفاظ و قراء اس موقع پر مکہ معظمہ کا رخ کریں گے۔ وزارت کے مطابق مقابلے کی تقریباً نصف صدی پر محیط تاریخ میں یہ سب سے بڑی بین الاقوامی شمولیت ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مقابلہ نہ صرف عالم اسلام میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔
وزیرِ اسلامی امور، شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز آلِ الشیخ نے اس موقع پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اس غیر متزلزل سرپرستی اور تعاون پر گہری قدردانی کا اظہار کیا، جو وہ قرآنِ کریم کی ترویج اور اس کی خدمت کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت کی قیادت ہمیشہ سے یہ چاہتی ہے کہ قرآن کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کیا جائے اور ایسے علمی و روحانی اجتماعات کے ذریعے اسلام کے اعتدال اور توازن پر مبنی پیغام کو مزید تقویت دی جائے۔
شیخ عبداللطیف آلِ الشیخ نے بتایا کہ اس مقابلے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ہر سال دنیا کے مختلف گوشوں سے چُنے ہوئے حفاظِ قرآن اس مقدس ترین سرزمین پر یکجا ہوتے ہیں، جہاں وہ نہ صرف اپنی قراءت اور حفظ کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے علمی اور روحانی تعلق بھی مضبوط کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محفل دراصل مملکت کے اس مشن کی آئینہ دار ہے جو اسلام کی خدمت، اس کے پیغامِ امن کی ترویج، اور نوجوان نسل میں قرآن سے محبت کو راسخ کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی قرآنی مقابلہ دنیا کے بڑے اور ممتاز مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی میزبانی سعودی عرب کے لیے ایک باعثِ فخر روایت بن چکی ہے۔ اس اجتماع سے نہ صرف قرآنی علوم کے ماہرین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و اخوت کے رشتے بھی مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
