ریاض : سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کابینہ نےروس یوکرین تنازعے کے پرامن حل کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور دیگر یورپی رہنماؤں کی طرف سے کی جانے والی کانفرنسوں کا خیر مقدم کیا۔
کابینہ نے اجلاس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے "گریٹر اسرائیل” کے متنازعہ نظریے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے ایک توہین آمیز اور توسیع پسندانہ سوچ قرار دیا۔ کابینہ نے قابض حکام کی تصفیاتی پالیسیوں اور بستیوں کی تعمیر کے اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔
کابینہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے اس تاریخی، قانونی اور انسانی حق پر قائم ہے کہ وہ بین الاقوامی قراردادوں کی بنیاد پر اپنی آزاد اور خودمختار ریاست قائم کریں، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ کابینہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ اسرائیل کو ان اقدامات سے باز رکھا جائے جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان نے کابینہ کو اپنے حالیہ بین الاقوامی روابط سے بھی آگاہ کیا، جن میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید، جمہوریہ کوریا کے صدر لی جے میونگ، اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت شامل تھی۔ انہوں نے جمہوریہ سیرا لیون کے صدر ڈاکٹر جولیئس ماڈا بیو کی جانب سے موصولہ پیغام کے اہم نکات بھی کابینہ کے ساتھ شیئر کیے۔
کابینہ نے عالمی یومِ انسانیت کے موقع پر سعودی عرب کے اس عالمی کردار پر فخر کا اظہار کیا جو انسانی امداد، فلاح و بہبود اور ترقیاتی تعاون کے میدان میں نمایاں ہے۔ کابینہ نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور عظیم انسانی اقدار پر مبنی سعودی قیادت نے مملکت کو دنیا کے سب سے بڑے امداد دینے والے ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا ہے، اور یہ سلسلہ مملکت کے قیام سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے۔
