سعودی عرب اور پورا خلیجی خطہ ایک بڑے صدمے میں ہے۔ سعودی عرب کے مشہور شاعر سعود بن معادی القحطانی عمان کے علاقے ظفار میں ایک پہاڑ سے گر کر انتقال کر گئے۔ وہ اپنی چھٹیوں کے دوران کوہ پیمائی کر رہے تھے کہ اچانک پھسل گئے اور گہری کھائی میں جا گرے۔ فوراً انہیں اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
سعودی سفارت خانے نے اس حادثے کی تصدیق کی اور بتایا کہ عمانی حکام کے ساتھ مل کر تمام قانونی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ ان کا جسد خاکی ریاض اور پھر ابہا بھیجا جا رہا ہے۔ عمان کی سول ڈیفنس نے کہا کہ بارش اور موسمِ خریف کی وجہ سے پہاڑی راستے پھسلن والے ہو جاتے ہیں، اس لیے لوگوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔
سعود القحطانی کا تعلق الباحہ کے علاقے سے تھا۔ یہ علاقہ پہاڑوں، وادیوں اور سرسبز قدرتی مناظر سے بھرا ہوا ہے۔ اسی ماحول نے ان کی شاعری کو ایک خاص رنگ دیا۔ بچپن ہی سے انہیں شعر کہنے اور لفظوں سے کھیلنے کا شوق تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شوق ان کی پہچان بن گیا اور وہ سعودی عرب کے بڑے شعرا میں شامل ہو گئے۔
انہوں نے اپنی زندگی میں پندرہ سے زیادہ شعری مجموعے شائع کیے۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، وطن سے لگاؤ بھی، اور عام انسانوں کے دکھ درد بھی۔ وہ مشاعروں اور ادبی تقریبات میں بڑے ذوق و شوق سے شریک ہوتے تھے۔ جب وہ اپنے اشعار پڑھتے تو سننے والے ان کی آواز اور انداز میں کھو جاتے۔ ان کی شاعری صرف سعودی عرب میں نہیں بلکہ پورے خلیج میں شوق سے پڑھی اور سنی جاتی تھی۔
انہیں لوگ "شاعر الجنوب” یعنی "جنوب کا شاعر” کہہ کر یاد کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جنوبی سعودی عرب کے مناظر اور وہاں کے لوگوں کے جذبات کو اپنی شاعری میں بہت خوبصورتی سے بیان کرتے تھے۔ ان کا انداز منفرد تھا کیونکہ وہ پرانی روایت کو بھی اپنی شاعری میں لاتے اور ساتھ ہی نئے خیالات کو بھی شامل کرتے تھے۔
ان کے انتقال کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ سب نے کہا کہ ان کے اشعار دلوں کو چھو جاتے تھے اور ان کا کام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے چاہنے والوں کا ماننا ہے کہ سعود القحطانی نے اپنی شاعری سے عرب ادب کو ایک نیا رخ دیا اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ چھوڑ گئے ہیں۔
ان کی موت صرف ایک خاندان یا علاقے کا نقصان نہیں، بلکہ یہ پورے سعودی عرب اور خلیجی دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ لیکن اصل فنکار کبھی نہیں مرتے، وہ اپنے لفظوں اور اپنے فن کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ سعود القحطانی بھی اپنی شاعری کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
