سعودی محکمہ پاسپورٹ نے 2025 کے پہلے نصف حصے میں اقامہ، ملازمت اور سرحدی امن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اہم کارروائیاں کی ہیں۔ یکم جنوری سے 30 جون 2025 تک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام نے ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ فیصلے جاری کیے ہیں، جن میں قید، جرمانے اور بے دخلی کی سزائیں شامل ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق ان فیصلوں میں سعودی شہریوں اور غیر ملکی مقیم افراد کے خلاف مقررہ قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ محکمہ پاسپورٹ نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اقامہ، ملازمت یا سرحدی امن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں، اور ان کو ٹرانسپورٹ، روزگار، رہائش، پناہ یا پردہ پوشی فراہم کرنے سے اجتناب کریں۔
محکمہ نے مزید وضاحت کی کہ اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو روزگار یا ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا سنگین قانون شکنی ہے۔ ان افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون کرنے والے سعودی شہری یا مقیم غیر ملکی بھی قانون کے تحت سزا کے مستحق ہوں گے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے مملکت میں داخل ہوتے ہیں، ان کے ساتھ تعاون کرنا نہ صرف جرم ہے بلکہ ملک کی سالمیت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
سعودی امیگریشن قوانین کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے سپانسر کے علاوہ کسی اور جگہ ملازمت نہ کریں، اور یہ قانون سعودی حکومت کی جانب سے ملکی معیشت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
یہ سخت اقدامات سعودی حکام کی جانب سے مملکت میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے، امیگریشن قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی طور پر موجود افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
