مصری صدر عبدالفتاح السیسی جمعرات کو سعودی عرب کے دورے پر نیوم پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق، یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری لانے اور علاقائی امور پر بات چیت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
نیوم ایئرپورٹ پرسعودی ولی عہد نے خودمصری صدرکااستقبال کیااوردونوں رہنماؤں کےدرمیان دوستانہ ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور مصر کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزیدمستحکم کرنے پرزور دیا۔ اس کے علاوہ، مختلف اقتصادی، تجارتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی بات کی گئی۔
یہ دورہ سعودی عرب اور مصر کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کے تناظر میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر السیسی کی ملاقات میں خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان خطے کے امن و استحکام، اقتصادی ترقی اور سکیورٹی پر بات چیت کی گئی۔
اس دورے کو سعودی عرب اور مصر کے درمیان موجود اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور مصر دونوں خطے کے اہم کھلاڑی ہیں، اور ان کے درمیان قریبی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے عرب و مشرق وسطی کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہیں۔
نیوم سعودی ولی عہد کے وژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو عالمی سطح پر ایک اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل مرکز کے طور پر اُبھارنا ہے۔ اس وژن میں مصر کا کردار بھی اہم ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔
اس دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کے نئے معاہدوں پر بات چیت متوقع ہے۔ سعودی عرب اور مصر دونوں عالمی سطح پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور یہ دورہ ان مشترکہ مفادات کو مزید فروغ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سعودی عرب اور مصر کے تعلقات کی تاریخ ایک طویل اور مستحکم ہے۔ دونوں ممالک نے کئی بار ایک دوسرے کی مدد کی ہے اور مشترکہ چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات کی ایک اور مثال ہے جو مستقبل میں مزید گہرا ہونے کی توقع ہے۔
