سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ قطیف کمشنری کی عدالت میں اوقاف کے جج کو اغوا اور قتل کرنے والے شخص پر سزائے موت کا فیصلہ نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس مجرم کا نام جلال بن حسن بن عبد الکریم لباد ہے، جس نے دہشت گرد تنظیم سے وابستگی اختیار کی اور متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔
وزارت داخلہ کے مطابق، جلال لباد نے ملک میں تخریب کاری کی اور سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ اور بمباری کر کے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے خلاف تمام ثبوت اور دلائل عدالت میں پیش کیے گئے، جہاں الزام ثابت ہونے پر اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ اس مجرم کی کارروائیوں نے ملک کی سیکیورٹی کو شدید خطرے میں ڈال دیا تھا، جس کے باعث عدالت نے اسے زمین میں فساد پھیلانے کی سزا دی۔
عدالتی عمل میں جلال لباد کی سزا کو نہ صرف ابتدائی عدالت نے سنا بلکہ اپیل کورٹ نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی۔ ایوان شاہی نے اس فیصلے پر عملدرآمد کی منظوری دی۔ وزارت داخلہ کے مطابق، اس فیصلے کو آج جمعرات کو سعودی مشرقی ریجن میں نافذ کر دیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سزا سعودی عرب کے عزم کا اظہار ہے کہ ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔ اس طرح کے فیصلے دہشت گردوں کے خلاف سعودی عرب کے قانون کی حکمرانی اور امن و سکون کو یقینی بنانے کے عزم کو ثابت کرتے ہیں۔
اس فیصلے کا علاقائی سلامتی پر بھی گہرا اثر پڑے گا، کیونکہ سعودی عرب نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور اس طرح کی سزائیں دہشت گردی کے حوالے سے سعودی عرب کے سخت موقف کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔ اس سزا کے بعد ملک کے شہریوں میں بھی یہ پیغام جائے گا کہ امن و سکون کو درہم برہم کرنے والوں کے لیے سعودی عدالتوں میں کوئی رعایت نہیں ہے۔
