برطانیہ کے نئے مقرر کردہ سفیر اسٹیفن ہچن نے سعودی عرب میں اپنی تعیناتی کو زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مملکت کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کے مطابق برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستانہ رشتہ موجود ہے اور دونوں ممالک اپنے مستقبل کے لیے شاندار اہداف رکھتے ہیں۔
اپنی تعیناتی کے چند ہی دن بعد، ہچن نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر عربی زبان میں جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں سعودی عوام سے اپنا تعارف کرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بنیادی ترجیح تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، معیشت اور اسٹریٹجک تعاون جیسے شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسیع اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی تیز رفتار ترقی اور اس انداز کو بھی سراہا جس میں جدید ٹیکنالوجی کو روایتی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
سعودی سرزمین پر آمد کے بعد ہچن اور ان کے اہل خانہ نے فوراً مقامی ماحول میں خود کو ڈھالنا شروع کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف مشہور ای اسپورٹس کپ میں شرکت کی بلکہ تاریخی علاقے درعیہ کا بھی دورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں وہ مملکت کے مختلف خطوں کا سفر کریں گے، جن میں نجران، دمام، العُلا اور ربع الخالی شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کے اہل خانہ نے سعودی مہمان نوازی کی حقیقی روح کو محسوس کیا اور اب وہ ملک کے پہاڑوں، صحراؤں، جدید شہروں اور قدیم بستیوں کو دریافت کرنے کے خواہش مند ہیں۔
اسٹیفن ہچن نے باضابطہ طور پر اس ماہ اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے اور وہ نیل کرومپٹن کے جانشین بنے ہیں جن کی مدتِ ملازمت جولائی میں مکمل ہوئی تھی۔ ہچن کی سفارتی خدمات کا دائرہ وسیع ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کا تجربہ خاصا نمایاں ہے۔
وہ 2023 سے 2025 تک عراق میں برطانیہ کے سفیر رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے 2016 سے 2019 تک برطانیہ کے دفترِ خارجہ اور ترقیات (ایف سی ڈی او) میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے قومی سلامتی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے کیریئر میں کویت، اردن اور مصر میں اہم ذمہ داریاں بھی شامل رہی ہیں جبکہ ایران سے متعلق معاملات اور انسداد دہشت گردی پر خصوصی کردار بھی ادا کیا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ ایک جدید شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے بلکہ اس ترقیاتی ماڈل سے بھی سیکھنے کا خواہاں ہے جس نے مملکت کو مختصر مدت میں غیر معمولی کامیابیاں دلائی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب کی روایتی اقدار اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان جو ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے، وہ دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔
ہچن کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد اعتماد اور باہمی احترام پر رکھی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اس تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کرے گا تاکہ نہ صرف تجارتی اور تعلیمی مواقع بڑھیں بلکہ سلامتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھل سکیں۔
انہوں نے اپنی تقرری کو زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور سعودی عرب دونوں کی تاریخیں شاندار ہیں اور دونوں کے سامنے مستقبل کے لیے بڑے خواب ہیں۔ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہم ایک دوسرے سے تعاون اور تجربات کا تبادلہ جاری رکھیں گے۔
