سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب سے شامی سرزمین پر مسلسل حملوں اور خلاف ورزیوں پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری حالیہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات نہ صرف شام کی خودمختاری پر کھلا حملہ ہیں بلکہ یہ عالمی قوانین اور 1974 کے ’’ڈس انگیجمنٹ معاہدے‘‘ کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس وقت شام کے صوبہ السویدا میں پہلے ہی کشیدگی اور عدم استحکام کی صورتحال موجود ہے، ایسے میں اسرائیلی جارحیت مزید مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں کے خلاف مضبوط اور واضح موقف اپنائے تاکہ شام کی سالمیت کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
مزید برآں سعودی حکومت نے شام کی ریاستی اداروں اور حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے تاکہ ملک میں امن، استحکام اور شہری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سعودی عرب کے مطابق شام کو اپنی تمام سرزمین پر مکمل خودمختاری حاصل کرنے کا حق ہے اور اس میں کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب کسی بھی ایسے مطالبے کو یکسر مسترد کرتا ہے جو شام کو تقسیم کرنے یا اس کی جغرافیائی اکائی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔ سعودی قیادت نے تمام شامی دھڑوں سے اپیل کی کہ وہ اختلافات ختم کر کے بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور ایک مضبوط اور متحد نئے شام کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
آخر میں سعودی عرب نے دنیا کے تمام ممالک اور عالمی اداروں سے درخواست کی کہ وہ شام کی خودمختاری کے دفاع میں اس کا ساتھ دیں اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں۔
