ریاض : سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں دنیا کی قیادت سنبھالنے کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔ مملکت میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کے سربراہ، طارق امین نے معروف امریکی ٹی وی چینل CNBC کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ وہ امریکہ اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا AI فراہم کرنے والا ملک بن جائے
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خواب نہیں بلکہ اس کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے۔ مملکت میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، اور 2026 کے آغاز میں ان سینٹرز کو امریکہ سے درآمد شدہ جدید سیمی کنڈکٹرز سے چلایا جائے گا۔
طارق امین نے عربی زبان میں تیار کیے گئے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ "ہیومن چیٹ” کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جو خطے کے لیے ایک سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ AI ماڈل مقامی زبان، ثقافت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ یہ عرب دنیا کے لیے زیادہ مؤثر، قابل فہم اور حسبِ حال ہو۔”
طارق امین نے بتایا کہ سعودی عرب نہ صرف ٹیکنالوجی میں بلکہ اس سے متعلقہ انفراسٹرکچر میں بھی بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھامیری سرمایہ کاری صرف مستقبل کے لیے نہیں، بلکہ ایک مکمل حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے ہے ایک ایسا وژن جو منفرد، دلچسپ، شاندار اور دنیا کو حیران کر دینے والا ہے۔
یہ تمام کوششیں سعودی عرب کے وژن 2030 کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مملکت کو صرف توانائی اور تیل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور اختراع کی عالمی قیادت میں شامل کرنا ہے۔
