سعودی عرب کی ہونہار دستکار امل السویدی نے روایتی فن سدو کو نہ صرف زندہ کیا بلکہ اسے جدت، تخلیقی صنعت اور جدید فیشن کا حصہ بنا دیا۔ ان کا یہ کارنامہ سعودی ثقافت اور عالمی فیشن کے امتزاج کی ایک شاندار مثال ہے، جو سعودی شناخت کو نئے زاویوں سے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
امل السویدی کا سدو کے ساتھ تعلق بچپن میں شروع ہوا، جب انہوں نے لوم (بُنائی کا آلہ) کے ساتھ تجربہ کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شوق ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ انہوں نے تحقیق اور مسلسل سیکھنے کے سفر کے بعد باضابطہ ٹرینر کے طور پر سرٹیفکیٹ حاصل کیا تاکہ اپنے فن کو سائنسی اور منظم انداز میں دوسروں تک پہنچا سکیں۔
امل السویدی نے اس ذہنی تصور کو چیلنج کیا جو سدو کو صرف "قدیم فن” تک محدود کرتا تھا۔ جدید ڈیزائنز اور نئے انداز کے ذریعے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ سدو آج بھی گھریلو سجاوٹ، فیشن اور جدید طرزِ زندگی کے لیے موزوں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سدو محض ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ "ایک قدر، شناخت اور کہانی” ہے، جس کا مقابلہ عام تجارتی اشیاء سے ممکن نہیں۔
روایتی سرخ اور کالے رنگوں تک محدود فن کو انہوں نے سنہری، چاندی اور آسمانی نیلے رنگوں سے نیا حسن بخشا۔ ان جدید امتزاجات نے نہ صرف سدو کو نئی نسل کے لیے مزید پرکشش بنایا بلکہ فیشن اور انٹیریئر ڈیزائن میں بھی اسے نئے مواقع فراہم کیے۔
امل السویدی کا ماننا ہے کہ سعودی دستکاریاں عالمی سطح پر مسابقت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ سعودی ویژن 2030 کی حمایت نے ان دستکاریوں کو ایک نئی توانائی دی ہے۔ ان کے مطابق سدو اب فیشن، فرنیچر، اندرونی ڈیزائن اور حتیٰ کہ ٹیکنالوجی میں بھی ایک تخلیقی صنعت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
