سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں روایتی ہنر ’الندافہ‘ آج بھی زندہ ہے، جو روئی اور اون کو نرم اور قابل استعمال بناتے ہوئے گدے، رضائیاں اور تکیے تیار کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے ایس پی اے سے بات کرتے ہوئے ہنرمند نضال فیصل العبید نے بتایا کہ ’النداف وہ کاریگر ہوتا ہے جو روایتی اوزار اور مہارت کی مدد سے اون اور روئی کو صاف کر کے نرم بناتا ہے، اور پھر اسے گھریلو استعمال کے لیے تیار کرتا ہے۔
یہ ہنر صنعتی اور جدید متبادل مصنوعات کے آنے سے پہلے لوگوں کو آرام فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ حدودِ شمالیہ میں بڑی تعداد میں بھیڑ بکریوں کی موجودگی اور اون کی دستیابی نے ’الندافہ‘ کے اس روایتی ہنر کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اگرچہ اب کچھ کاریگر سادہ مشینوں کا استعمال کر کے کام کو تیز کرتے ہیں، لیکن اس ہنر کی اصل روح اور روایتی طریقے آج بھی برقرار ہیں۔ اون کے چناؤ سے لے کر اسے صاف کرنے، نرم بنانے، اور مقامی طور پر بنے ہوئے کپڑوں میں بھرنے تک ہر مرحلہ ثقافت، روایات اور جدید ذوق کے امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن اور وزارتِ ثقافت وژن 2030 کے تحت ’الندافہ‘ جیسے روایتی ہنر کو محفوظ بنانے اور فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہنرمندوں کو تربیت دی جا رہی ہے، کام کی مہارت بڑھائی جا رہی ہے، اور مارکیٹنگ کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ ہنر نہ صرف ثقافتی ورثے کا حصہ بنے بلکہ روزگار کا ایک مضبوط ذریعہ بھی بن سکے۔
ثقافتی نمائشوں اور سعودی روایات کے قومی فیسٹولز میں ہاتھ سے بنائی گئی رضائیوں اور گدوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ’الندافہ‘ صرف ایک ہنر نہیں بلکہ سعودی معاشرت اور ثقافت کی ایک زندہ علامت ہے۔
