ریاض: سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی آلِ الشیخ مسلسل دوسرے سال باکسنگ نیوز میگزین کی طرف سے اس کھیل کی بااثر ترین شخصیات کی سالانہ فہرست میں سرِفہرست ہیں۔ سعودی رائل کورٹ میں مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دینے والے آلِ الشیخ کو 2025 کے لیے برطانوی میگزین کی عالمی باکسنگ میں 50 بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں اوّل نمبر پر رکھا گیا ہے، جو بین الاقوامی کھیلوں کے منظرنامے پر ان کے بڑھتے ہوئے اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔
یہ اعزاز اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب عالمی چیمپیئن شپ اور تاریخی باکسنگ مقابلوں کی میزبانی کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ریاض اور دیگر شہروں میں یہ مقابلے سعودی ویژن 2030 کی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہیں، جس کا مقصد کھیل اور تفریح کے ذریعے معیشت کو متنوع بنانا ہے۔
آلِ الشیخ کی قیادت میں سعودی عرب نے غیر متنازعہ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ جیسے بڑے مقابلوں کی میزبانی کی، جن میں ٹائی سن فیوری بمقابلہ اولِکزینڈر یوسک اور انتھونی جوشوا کے مقابلے شامل تھے۔ دسمبر 2023 میں ریاض میں منعقدہ "یومِ انتقام” کے مقابلے نے سعودی عرب کو عالمی باکسنگ میں مزید شہرت اور کامیابی دی۔
آلِ الشیخ کے عالمی اثر و رسوخ کی بدولت باکسنگ کے بڑے نام سعودی عرب آئے اور عالمی باکسنگ کیلنڈر کو نئی شکل ملی، جس سے ریاض لاس ویگاس اور لندن جیسے عالمی مقامات کے مقابلوں کے برابر پہنچ گیا۔ برطانیہ کے قدیم ترین باکسنگ میگزین باکسنگ نیوز نے آلِ الشیخ کو اس سال کے عالمی کھیلوں کی 50 طاقتور ترین اور بااثر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا۔
سعودی عرب میں عالمی مقابلوں کی میزبانی اور آلِ الشیخ کی قیادت نے نہ صرف باکسنگ کے منظرنامے میں انقلاب برپا کیا ہے بلکہ ریاض کو عالمی کھیلوں کے نقشے پر ایک نمایاں مقام بھی دیا ہے، جس سے مملکت کی عالمی پہچان میں اضافہ ہوا ہے۔
