جدہ:سعودی عرب کی مشہورمصورہ سمر القحطانی اپنے فنکارانہ سفر کوجاری رکھتے ہوئےسعودی عرب کےجنوبی علاقوں،جدہ اورریاض کےلوک فن اورروایتی فن تعمیر کو جدید انداز میں پیش کررہی ہیں۔ان کا فن تاثراتی آزادی اور ہندسی درستگی کاحسین امتزاج ہے، جو سعودی ثقافت اور ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا مقصد صرف ماضی کی یادوں کو زندہ کرنا نہیں بلکہ سعودی شناخت کو محفوظ اور مستحکم کرنا بھی ہے۔
سمر القحطانی کےمطابق ان کا فن نہ صرف جمالیاتی اظہار ہے، بلکہ یہ سعودی شناخت اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ وہ اپنے فن کے ذریعے سعودی عرب کےلوک فن اور روایتی فن تعمیر کو دستاویزی شکل دے کر اس کی تاریخ اور شناخت کو نئی زندگی دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم ایک ہم عصر نقطہ نظر سے ورثے کو دوبارہ پڑھ رہے ہیں، اسے محفوظ کررہے ہیں اور اسے نئی زندگی دے رہے ہیں۔
سمر القحطانی نےجدہ اورجنوبی سعودی عرب کے شہر ابھا میں پرورش پائی، جس کیوجہ سے ان کا لوک فن سےگہرا تعلق ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جغرافیائی تنوع نے ان کے فنکارانہ ذوق پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سعودی ویژن 2030 اور ان کے ورثے میں دلچسپی نے ان کے شوق کو مزید گہرا کیا ہے، اور اب وہ اس میدان میں محنت کر رہی ہیں۔
سمر القحطانی نے کہا کہ انہیں القط العسیری’ (ایک روایتی آرٹ فارم) میں خاص دلچسپی ہے اور وہ اس سے متعلق ہر شائع ہونے والی چیز کا جائزہ لیتی ہیں۔اس کے علاوہ، وہ سعودی حجازی فن تعمیر اور لباس کی تاریخ پر مبنی کتابیں اور دستاویزات بھی جمع کرتی ہیں۔ سمر نے بتایا کہ وہ جدہ،مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے قدیم علاقوں کا باربار دورہ کرتی ہیں تاکہ ان تفصیلات کو قریب سے دیکھ سکیں جو ان کے فن میں نئی جہتیں ڈالتی ہیں۔
سمر القحطانی کا ماننا ہے کہ ان کےفن میں آزادی اور ضبط ایک دوسرے کے مخالف نہیں،بلکہ یہ دومکمل طور پرمربوط عناصر ہیں ،وہ کہتی ہیں کہ "میں سجاوٹ کو دقیق ہندسی اکائیوں کے طور پر دیکھتی ہوں، لیکن میں رنگوں اور تاثرات کو روح اور حرکت پیدا کرنے کے لیے جگہ دیتی ہوں۔ ان کے کاموں میں یہ توازن خود بخود پیدا ہوتا ہے اور کبھی کبھار یہ توازن فنی الہام اور احساس کی بے ساختگی کے ساتھ ہوتا ہے۔
سمر القحطانی نے اپنے کاموں میں برش اورپینٹنگ نایف کے ساتھ ایکریلک کے استعمال کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا ہے، "میرے لیے اوزار احساس کی توسیع اور ایک ذریعہ ہیں جس کے ذریعے میں اپنے تصور کو حقیقت میں بدلتی ہوں۔” سمر کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی انہیں برش کی نرمی کی ضرورت ہوتی ہے اور کبھی پینٹنگ نایف میں انہیں اشکال کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری قوت اور تیزی ملتی ہے۔ ان کے مطابق، تکنیک کو خیال پر مسلط نہیں کیا جاتا بلکہ خیال ہی مناسب وسیلے کا تعین کرتا ہے
