سعودی عرب نے اپنی جدید بصری کہانیوں کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لیے اٹلی کے شہر وینس کو منتخب کیا ہے، جہاں ایک اہم ثقافتی تقریب کے تحت وزارتِ ثقافت نے ایک نئی نمائش کا افتتاح کیا ہے۔ یہ تقریب تاریخی اہمیت کے حامل ابازیہ (Abbazia) کی عمارت میں منعقد کی گئی جو ڈورسودورو 172 پر واقع ہے، اور اسے وزارتِ ثقافت کے خصوصی پروگرام "سعودی منسٹری آف کلچر اِن ابازیہ” کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس نمائش کا مرکزی نکتہ کنگڈم فوٹوگرافی ایوارڈ ہے۔ یہ سالانہ مقابلہ 2022 میں سعودی وژوئل آرٹس کمیشن کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد فوٹوگرافی کو بطور فنونِ لطیفہ نہ صرف تقویت دینا ہے بلکہ نئے اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے۔ اس ایوارڈ کی بدولت وہ نوجوان اور پیشہ ور فوٹوگرافرز سامنے آ رہے ہیں جو سعودی عرب کو نئے زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔
اس سال کی نمائش کو ممتاز کیوریٹر محمد سومجی نے ترتیب دیا ہے اور اسے عنوان دیا گیا ہے: "ایک نئی روشنی میں: سعودی عرب کی معاصر فوٹوگرافی”۔ اس میں 50 تخلیقی فن پارے شامل کیے گئے ہیں جو ایوارڈ کے پچھلے ادوار میں منتخب ہوئے تھے۔ ان تصاویر کا مقصد روایتی اور پرانے تصورات سے ہٹ کر سعودی عرب کے بدلتے ہوئے مناظر، کثیر الجہتی ثقافت اور ان کہانیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے جو عام طور پر نمایاں نہیں ہوتیں۔
یہ ایوارڈ دو مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے: کمیشن پروگرام، جس میں سعودی عرب اور دنیا بھر کے فوٹوگرافرز کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ نئے منصوبے تخلیق کریں جو مملکت کے جغرافیے اور سماجی و ثقافتی کہانیوں کی عکاسی کریں۔
اوپن کال ٹریک، جس کے ذریعے بڑھتی ہوئی عالمی برادری میں نئے اور پرجوش فوٹوگرافرز کو شامل کیا جاتا ہے۔
اپنے آغاز سے اب تک اس ایوارڈ کے لیے 2000 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 50 سے زیادہ فنکاروں کو تعاون فراہم کیا گیا ہے، جن کا تعلق نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا کے مختلف خطوں سے ہے، جن میں ارجنٹینا، مصر، فلپائن، مراکش، برطانیہ، امریکہ اور یمن بھی شامل ہیں۔
اس موقع پر سعودی وژوئل آرٹس کمیشن کی سی ای او دینا امین نے کہا کہ:ابازیہ کی عمارت میں کنگڈم فوٹوگرافی ایوارڈ کے کاموں کی نمائش بین الاقوامی ناظرین کو سعودی فوٹوگرافی دکھانے کا ایک شاندار موقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تقریب نہ صرف سعودی عرب کی وسعت اور گہرائی کو ظاہر کرتی ہے جو اس کے عوام، ورثے اور مناظر میں جھلکتی ہے بلکہ یہ سعودی فوٹوگرافرز کے منفرد تخلیقی وژن کو بھی عالمی سطح پر روشناس کراتی ہے۔ خاص طور پر وینس جیسے شہر میں، جو دنیا بھر میں فنون کے ساتھ اپنے مکالمے کے لیے شہرت رکھتا ہے۔
ابازیہ پروگرام دراصل سعودی عرب کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنی فنون اور ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانا ہے۔ اٹلی اور وینس کی مقامی ثقافتی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے مملکت اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو عالمی فنکارانہ مباحث میں مرکزی مقام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
