سعودی عرب اور جنوبی کوریا کے تعلقات میں ثقافتی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے ایک اہم معاہدہ سامنے آیا ہے۔
یہ معاہدہ سیول کے نیشنل پیلس میوزیم آف کوریا میں دستخط ہوا، جس میں سعودی وزارتِ ثقافت اور کوریا ہیریٹیج سروس نے باقاعدہ طور پر ایک ایگزیکٹو پروگرام آف کوآپریشن پر اتفاق کیا۔ اس نئے پروگرام نے دونوں ملکوں کے درمیان اس سمجھوتے کو مزید مضبوط کر دیا ہے جو جون 2019 میں طے پایا تھا، جب سعودی وزارتِ ثقافت اور کوریا کی وزارتِ ثقافت، کھیل اور سیاحت کے درمیان ایک یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط ہوئے تھے۔ اُس وقت طے شدہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کے لیے ایک بنیادی خاکہ فراہم کرتا تھا، جبکہ تازہ ترین اقدام اس خاکے کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔
یہ ایگزیکٹو پروگرام صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا عملی منصوبہ ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف غیر مادی ثقافتی ورثے (Intangible Heritage) کو محفوظ بنانے پر زور دیں گے بلکہ ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی تجربات کے تبادلے کو بھی ترجیح دیں گے۔ اس اقدام کے ذریعے ثقافتی ورثے کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ رکھنے اور نئی نسلوں تک منتقل کرنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
اس تقریب میں سعودی وزارتِ ثقافت کی نمائندگی ڈپٹی منسٹر برائے ریسرچ اینڈ کلچرل ہیریٹیج ڈاکٹر مہا السنن نے کی، جبکہ کوریا ہیریٹیج سروس کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل برائے انٹینجیبل کلچرل ہیریٹیج بیورو، یون سون ہو نے دستخط کیے۔ دونوں نمائندوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے جس میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کو عالمی معیار پر استوار کرنے کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں۔
معاہدے کا ایک اہم پہلو ٹیکنالوجی کے ذریعے ورثے کو محفوظ بنانا ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک ریکارڈز کی ڈیجیٹائزیشن (Digitization) کے عمل کو آگے بڑھانے، ڈیجیٹل آرکائیونگ کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام تیار کرنے اور غیر مادی ثقافتی ورثے پر مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ اس طرح نہ صرف ماضی کی تاریخ کو محفوظ رکھا جا سکے گا بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط علمی بنیاد بھی قائم ہوگی۔
مزید یہ کہ اس پروگرام میں باقاعدہ علمی اور ثقافتی تبادلوں، ماہرین کے لیے ورکشاپس، اور دونوں ممالک میں مشترکہ کانفرنسوں کا انعقاد بھی شامل ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے سعودی عرب اور کوریا کے ماہرینِ ورثہ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں گے اور اپنے تجربات کو آگے بڑھا سکیں گے۔
عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ ٹیم بھی تشکیل دی جائے گی، جو ان تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے گی اور یہ دیکھے گی کہ معاہدے کے تحت طے شدہ اہداف کس طرح بروقت اور کامیابی کے ساتھ حاصل کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح نہ صرف تعاون کے عمل کو منظم بنایا جائے گا بلکہ مستقبل میں مزید منصوبوں کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
