سعودی عرب کا شاہ سلمان مرکز عالمی ادارہ صحت (WHO)غزہ:کے تعاون سے غزہ پٹی کے علاقے خان یونس میں ناصر طبی مرکز میں ایک اہم معاشرتی فلاحی منصوبہ شروع کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کے مقامی افراد کو بہترین صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے جدید طبی سامان اور خدمات کی فراہمی کی گئی ہے۔ سعودی امداد کی یہ کھیپ بنیادی طور پر ہنگامی اور ضروری طبی اشیا پر مرکوز ہے تاکہ مقامی طبی اداروں کی استعداد کار کو بہتر بنایا جا سکے اور مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔
ایس پی اے کے مطابق اس فلاحی منصوبے کے تحت ناصر طبی مرکز میں ایک جدید طبی سامان کا سٹور قائم کیا گیا ہے، جہاں مختلف اقسام کے ہنگامی اور بنیادی طبی ضروریات کی اشیا دستیاب ہیں۔ ان اشیاء میں ادویات، طبی آلات، اور حفاظتی سامان شامل ہیں جو کسی بھی ہنگامی حالت میں فوری طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت ڈائیلاسز سینٹر کا قیام ہے، جو گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کرے گا۔ جدید ترین میڈیکل آلات کی فراہمی سے ان مریضوں کو ڈائیلاسز کی سہولت ملے گی جو کہ قبل ازیں کمی یا وسائل کی کمی کی وجہ سے دستیاب نہیں تھی۔ مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عاطف الحوت نے اس حوالے سے بتایا کہ جدید سٹور کی فراہمی سے صحت کی خدمات کا معیار بلند ہوگا، اور اس سے نہ صرف مقامی کمیونٹی کی زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ مریضوں کو بہتر علاج کی سہولت بھی ملے گی۔
سعودی عرب کی امدادی ایجنسی نے غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینی خاندانوں میں فوڈ باسکٹس کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے، تاکہ غذائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، شاہ سلمان مرکز نے فضائی اور بحری امدادی پل بھی قائم کیے ہیں جن کے ذریعے 7,180 ٹن سے زیادہ امداد غزہ پہنچائی جا چکی ہے۔ ان امدادی کارروائیوں میں 20 ایمبولینسز کی فراہمی بھی شامل ہے تاکہ مقامی اسپتالوں اور طبی مراکز کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکے اور فوری طور پر زخمیوں کو علاج فراہم کیا جا سکے۔
سعودی عرب کی ان امدادی کوششوں سے غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے، اور اس نے فلسطینی عوام کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کی ہے جس سے ان کے روزمرہ زندگی کے معیار میں بہتری آئے گی۔ اس انسانی امداد کو ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح عالمی برادری ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے آ سکتی ہے۔
