سعودی عرب کے تاریخی شہر الدرعیہ میں واقع عصری فنون کا سعودی میوزیم ایک منفرد اور دلچسپ نمائش کا آغاز کرنے جا رہا ہے جس کا عنوان ہےسیٹیز انڈر کورانٹیندا میل باکس پروجیکٹ”یہ نمائش سعودی میوزیم کمیشن کی جانب سے منعقد کی جا رہی ہے اور 28 ستمبر تک جاری رہے گی۔ نمائش کا مقصد عالمی وبا کووڈ 19 کے دوران عرب فنکاروں کے تخلیق کردہ فن پاروں اور ذاتی تجربات کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہے، جو لاک ڈاؤن اور عالمی تنہائی کے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس منفرد نمائش میں 2020 کے موسمِ بہار میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران دنیا بھر میں محسوس ہونے والی تنہائی، فکر اور انسانی تعلقات میں تبدیلیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ نمائش میں مختلف عرب فنکاروں کی جانب سے تخلیق کی گئی کتابوں کو دکھایا جائے گا، جنہیں عابد القادری کی قیادت میں 50 عرب فنکاروں کے ہاتھوں 57 کتابوں میں ڈھالا گیا تھا۔ ان کتابوں میں ہر فنکار نے اپنے ذاتی تجربات اور وبا کے دوران انسانی تعلقات اور فطرت پر کیے گئے غور و فکر کو بیان کیا ہے۔
نمائش میں آنے والے افراد ان فن پاروں کا مشاہدہ کر سکیں گے جو فن، تحریر اور ذاتی خیالات کا امتزاج ہیں۔ ان تخلیقات میں نہ صرف انفرادی کہانیاں بلکہ عالمی سطح پر کووڈ 19 کے اثرات کی عکاسی بھی کی گئی ہے۔ ان کتابوں میں وہ لمحے اور منظر پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے انسانوں کے اندر نئی بصیرت پیدا کی اور غور و فکر کی جگہ فراہم کی۔ نمائش میں، فنکاروں نے لاک ڈاؤن کے دوران خاموشی، خواہشوں، اور تنہائی کو جذباتی طور پر پیش کیا، جس نے دنیا بھر کے افراد کو ان کے ذاتی تجربات اور خیالات کی گہرائی میں غوطہ لگانے کا موقع دیا۔
یہ نمائش عابد القادری کی قیادت میں ایک عالمی پراجیکٹ کا حصہ ہے، جس میں فنکاروں سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ کورونا وائرس کے دوران اپنے ذاتی تجربات اور زندگی کے اس خاص دور کو ادبی انداز میں پیش کریں۔ پراجیکٹ کی تخلیق میں عرب فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کیا گیا، اور ہر کتاب میں ایک منفرد انداز اور ذاتی ردعمل پیش کیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں انفرادی طور پر ان لمحات کو بیان کیا گیا ہے جب دنیا نے ایک سنگین عالمی بحران کا سامنا کیا تھا، اور ان تجربات نے ان فنکاروں کی تخلیق کے عمل کو ایک نیا رخ دیا۔
سیٹیز انڈر کورانٹین دا میل باکس پروجیکٹ کی نمائش کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس سے قبل یہ نمائش فلورنس کے ویلا رومن اور دوحہ میں عرب میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں منعقد کی جا چکی ہے۔ سعودی عرب میں اس نمائش کا یہ تیسرا پڑاؤ ہے، جہاں سعودی میوزیم کی اس نمائش کو ایک نیا مقام دیا گیا ہے۔ اس نمائش کا مقصد نہ صرف عالمی وبا کے اثرات کو سمجھنا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرنا ہے کہ کس طرح ایک وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کے تعلقات کو نئی سمت دی اور ان کے اندر خود شناسی اور فن کی تخلیق کا عمل پیدا کیا۔
اس نمائش کے دوران، چھ ستمبر کو ایک لائیو پرفارمنس بھی کی جائے گی جس کا عنوان ہوگا آج، میں بننا چاہوں گا۔ اس پرفارمنس میں عوام کو مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ فنکاروں کی کتاب تخلیق کرنے کے عمل میں حصہ لے سکیں۔ یہ ایک منفرد تجربہ ہوگا جس میں عام لوگ بھی فن کی تخلیق میں حصہ لیں گے اور خود کو اس تخلیقی عمل کا حصہ سمجھیں گے۔ اس پرفارمنس میں عوام کو اس بات کا موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنے ذاتی تجربات اور خیالات کو کتاب کی شکل میں پیش کریں، اور اس طرح فن کی تخلیق کا عمل مزید جاندار بن جائے گا۔
یہ نمائش نہ صرف ایک فن کی نمائش ہے بلکہ ایک موقع ہے کہ ہم وبا کے دوران انسانی تعلقات، خاموشیوں، خواہشوں، اور خود شناسی پر غور کریں۔ "سیٹیز انڈر کورانٹین: دا میل باکس پروجیکٹ” ایک ایسی تخلیقی کوشش ہے جو وبا کے دوران ٹھہری ہوئی زندگی کی حقیقت کو دریافت کرنے کی کوشش کرتی ہے، جہاں انسانوں نے نئے طریقوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے کی کوشش کی، اور اپنی داخلی دنیا کو نئی شکل دی۔
