ریاض :سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کے روز ریاض میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ یہ دورہ اگرچہ مختصر تھا، مگر اس کی اہمیت غیر معمولی رہی، خصوصاً فلسطین کی حالیہ سنگین صورتحال اس ملاقات کا مرکزی موضوع رہی۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں سعودی امارات تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خطے کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تفصیلی مشاورت ہوئی۔
ملاقات کے دوران سعودی حکومت کے کئی اہم وزراء اور مشیران موجود تھے، جن میں وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد العیبان شامل تھے۔
یہ اعلیٰ سطحی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ ملاقات محض رسمی نہیں بلکہ خطے کے حساس حالات خصوصاً فلسطین کے تناظر میں ایک اسٹریٹیجک مشاورت کا حصہ تھی۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں فلسطین کے معاملے پر دونوں رہنماؤں نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی فضا ہے، اور سعودی عرب و امارات دونوں عرب دنیا کے اہم کردار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
شیخ محمد بن زاید آل نہیان جب ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو ولی عہد محمد بن سلمان نے خود ان کا استقبال کیا۔ دورے کے اختتام پر بھی محمد بن سلمان نے انہیں رخصت کیا، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی اور سفارتی قربت کا بھرپور اظہار ہوا۔
اگرچہ یہ دورہ مختصر تھا، مگر اس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ہم آہنگی کو مزید اجاگر کیا۔ ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور سیاسی قیادت کے لیے مل کر کام کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
