مکہ: مکہ ریجن کے الجموم گورنریٹ میں منعقد ہونے والا تین روزہ ’خیرات وادی فاطمہ فیسٹیول‘ گزشتہ روز اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ یہ فیسٹیول وزارتِ ماحولیات، آب و زراعت کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا تھا اور اس میں مقامی زرعی پیداوار، جدید کاشتکاری کی تکنیک، اور ثقافتی و تفریحی سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق فیسٹیول میں 20 سے زیادہ کاشتکاروں اور شہد کے چھتے پالنے والوں نے شرکت کی، جبکہ مختلف حکومتی، نجی ادارے اور غیر نفع بخش تنظیمیں بھی اس میں شامل ہوئیں۔ تین روزہ ایونٹ میں 10 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے جنہیں تعلیمی، شاپنگ اور تفریحی مواقع فراہم کیے گئے۔
فیسٹیول میں مقامی پیداور جیسے کھجوریں، سبزیاں اور شہد توجہ کا مرکز رہیں، اور شرکا نے ان کی نمائش اور آگاہی بُوتھز میں دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔ اس کے علاوہ فیسٹیول میں کاشتکاری پر لیکچرز اور ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں، جن میں کیماوی کھاد اور جراثیم کش ادویات کے بغیر کاشتکاری کے طریقے سکھائے گئے۔
شہد کے چھتے پالنے والوں کی کامیابیوں کی کہانیوں کو بھی شرکا کے سامنے پیش کیا گیا، تاکہ جدید زرعی طریقوں کے فوائد اور مقامی کاشتکاروں کی محنت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کو بھی فیسٹیول کا حصہ بنایا گیا، جس میں روایتی کھیل، خاندانی مشاغل اور مقامی ثقافت کے مظاہرے شامل تھے۔
وزارتِ ماحولیات اور آب و زراعت نے اس ایونٹ کے ذریعے نہ صرف زرعی پیداوار کو اجاگر کیا بلکہ وادی فاطمہ کی اہمیت اور اس کے قدرتی وسائل کی بقا پر بھی زور دیا۔ فیسٹیول نے مقامی معیشت، ثقافت اور ماحول دوست کاشتکاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
