ریاض : سعودی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے ایک اہم اعلان کیا ہے جس کے مطابق مملکت میں کام کرنے والے اداروں کے لیے بحری ٹرانسپورٹ کی عالمی درجہ بندی کے لیے نئی شرائط اور ضوابط متعارف کرا دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا، بحری شعبے کو عالمی معیار کے مطابق استوار کرنا اور مملکت کے سمندری اثاثوں کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اتھارٹی نے ان ضوابط میں کم از کم دس ایسی بنیادی شرائط رکھی ہیں جن پر عمل کرنا ہر ادارے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان شرائط کے بغیر کسی بھی ادارے کو یہ اجازت نہیں ملے گی کہ وہ جہازوں کی تصدیقی اسناد جاری کرے یا متعلقہ خدمات فراہم کرے۔
ان شرائط میں شامل ہے کہ جہازوں کے ڈیزائن اور تعمیر کے دوران عالمی اور قومی تقاضوں کو مدِنظر رکھا جائے، جہازوں کا باقاعدگی سے معائنہ ہو، اور ان کی افادیت برقرار رکھنے کے لیے دیکھ بھال اور پرفارمنس کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔
اتھارٹی کے مطابق نئے ضوابط عالمی میری ٹائم تنظیم (IMO) کی سیفٹی کمیٹی کی سفارشات اور "کوڈ آف اپرووڈ باڈیز” کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف جہازوں کی کارکردگی اور معیار میں بہتری آئے گی بلکہ بحری سلامتی، جانی نقصان سے بچاؤ اور سمندری ماحولیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ اقدام عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھائے گا اور مملکت کو بین الاقوامی سطح پر بحری ٹرانسپورٹ کے ایک محفوظ اور معیاری مرکز کے طور پر اجاگر کرے گا۔ ساتھ ہی اس سے سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے میں مزید ترقی کے دروازے کھلیں گے۔
یہ اقدامات نہ صرف جہاز رانی اور بحری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نئے سرمایہ کاروں کو راغب کریں گے بلکہ موجودہ کمپنیوں کو بھی عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنائیں گے۔ بحری اثاثوں کی حفاظت اور عالمی معیارات پر عمل درآمد سے سعودی عرب خطے میں ایک نمایاں "میرین ہب” کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرے گا۔
