ریاض میں حالیہ دنوں منعقد ہونے والا سعودی۔جنوبی افریقہ بزنس فورم دراصل دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا آئینہ دار ہے۔ یہ فورم اس وقت منعقد ہوا جب سعودی عرب اور جنوبی افریقہ کی مشترکہ کمیٹی کا دسویں اجلاس بھی ساتھ ساتھ جاری تھا۔ اس اہم موقع پر دونوں ممالک کے وزراء، سرکاری نمائندے، کاروباری رہنما اور سرمایہ کار بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس اجتماع کو ایک ایسا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں نہ صرف تجارتی حجم کو بڑھائے گا بلکہ صنعت، کان کنی، انفراسٹرکچر اور زراعت جیسے کئی کلیدی شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون کو وسعت دے گا۔
سعودی وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا مقصد صرف وقتی سرمایہ کاری نہیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر شراکت داری قائم کرنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب صنعت و معدنیات کے شعبوں میں جنوبی افریقہ کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ جنوبی افریقہ نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ اس کے پاس جدید صنعتی ڈھانچہ اور افرادی قوت بھی موجود ہے۔ بندر الخریف نے کہا کہ سعودی حکومت اس شراکت داری کو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے فائدہ مند دیکھتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے سعودی شہریوں کو ویزے سے استثنیٰ دینے کا حالیہ فیصلہ اس شراکت داری کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف سفر کو آسان بنائے گا بلکہ سیاحت، ثقافت اور تعلیمی تبادلوں کو بھی فروغ دے گا۔ اس فیصلے سے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو بھی براہ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ کاروباری روابط کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ سفر کی مشکلات ہوتی ہیں، جو اب بڑی حد تک کم ہو گئی ہیں۔
سعودی وزیر نے اپنی تقریر میں اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کوئی نئے نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وقت کے ساتھ دنیا کی سیاسی اور معاشی صورتحال بدلی ہے لیکن سعودی عرب اور جنوبی افریقہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھایا ہے۔ خاص طور پر "سعودی عرب۔افریقہ بزنس کونسل” کا قیام اس سفر میں ایک اہم موڑ تھا۔ اس کونسل نے کاروباری اداروں کو نہ صرف بات چیت کے لیے پلیٹ فارم دیا بلکہ عملی اقدامات کی راہ بھی ہموار کی۔
الخریف نے یاد دلایا کہ اکتوبر 2024 میں جوہانسبرگ میں اس کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ اس اجلاس کے بعد کئی منصوبے شروع ہوئے، تجارتی حجم میں اضافہ ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ "معادن” کمپنی نے جنوبی افریقہ میں اپنا علاقائی ہیڈکوارٹر قائم کیا۔ اس فیصلے نے واضح کر دیا کہ سعودی عرب افریقہ کو صرف ایک تجارتی مارکیٹ کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے اپنی معاشی حکمت عملی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تیزی سے بدلتے عالمی حالات میں یہ شراکت داری مزید اہم ہو گئی ہے۔ دنیا اس وقت توانائی، ٹیکنالوجی اور خوراک کے شعبوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر سعودی عرب اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نہ صرف اپنے عوام کو فائدہ پہنچائیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام میں کردار ادا کر سکیں گے۔
جنوبی افریقہ کے وزیر برائے تجارت، صنعت اور مسابقت پارکس ٹاؤ نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ملکوں کی شراکت داری امید افزا ہے اور اس کی بنیاد ایک دوسرے کی تکمیلی صلاحیتوں پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی منڈیوں تک رسائی کے لیے جنوبی افریقہ کے لیے سب سے بڑا دروازہ ہے، جبکہ جنوبی افریقہ افریقہ کی مارکیٹ میں داخلے کے لیے سعودی عرب کا سب سے اہم ساتھی ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں ملک اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر کام کریں تو نہ صرف تجارتی حجم کئی گنا بڑھ سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ تعلقات ایک نمونہ بن سکتے ہیں۔
پارکس ٹاؤ نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک زراعت، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے تبادلے اور انسانی وسائل کی ترقی کو دونوں ملکوں کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر سعودی عرب اپنی مالی طاقت اور وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور جنوبی افریقہ اپنی صنعتی مہارت اور قدرتی وسائل کا استعمال کرتا ہے تو یہ شراکت داری ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔
ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس دراصل اس تسلسل کی کڑی ہے جس کا آغاز جوہانسبرگ میں 2024 میں ہوا تھا۔ وہاں کے اجلاس نے دو طرفہ تعلقات کے لیے نئی راہیں کھولیں جبکہ ریاض کا اجلاس یہ ثابت کرتا ہے کہ دونوں ممالک نے محض وعدے نہیں کیے بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ سعودی وژن 2030 کے اہداف میں عالمی سرمایہ کاری اور افریقی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کو اہمیت دی گئی ہے، اور جنوبی افریقہ کو اس حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
کہ سعودی عرب جنوبی افریقہ کو محض ایک تجارتی پارٹنر نہیں بلکہ براعظم افریقہ میں اپنے سب سے بڑے اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح جنوبی افریقہ نے بھی سعودی عرب کو اپنے سب سے اہم مشرق وسطیٰ پارٹنر کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ مستقبل میں یہ شراکت داری نہ صرف تجارت بلکہ تعلیم، سیاحت، توانائی اور ثقافتی تعاون جیسے شعبوں میں بھی پھیلے گی۔
یہ اجلاس ایک ایسا موقع تھا جس نے واضح کر دیا کہ سعودی عرب اور جنوبی افریقہ دونوں ہی اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ آنے والے برسوں میں اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں۔ یہ تعلقات صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے پر مثبت اثر ڈالیں گے۔
