ریاض: سعودی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے قطر کے خلاف دیے گئےجارحانہ اور اشتعال انگیز بیانات کی سخت مذمت کی ہے اور ان پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں سعودی عرب نے کہا کہ وہ قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دوحہ کے حق میں اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
بیان میں سعودی عرب نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں اور اس کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزیاں اور اس کے حالیہ بیانات عالمی برادری سے عملی اور مؤثر ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان تخریبی پالیسیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
قطر کے ساتھ سعودی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب قطر کے دفاع میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی حملوں اور جارحیت کو "مجرمانہ فعل” قرار دیتے ہوئے سعودی عرب نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کے خلاف صرف مذمت نہ کرے بلکہ اس پر عملی اقدامات بھی کرے تاکہ خطے میں اسرائیلی جارحیت کے مسلسل بڑھتے ہوئے اثرات کا تدارک کیا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا سعودی عرب قطر کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور قطر کے تمام داخلی اور خارجی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔سعودی عرب نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ قطر کی خودمختاری اور اس کی سلامتی کو مملکت کی قومی سلامتی کے مترادف سمجھا جائے گا۔ سعودی حکومت نے کہا کہ قطر کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا مداخلت کو عرب دنیا کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
قبل ازیں سعودی عرب نے اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ایسے حملے صرف جارحیت نہیں بلکہ بین الاقوامی امن و سیکیورٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ سعودی عرب نے ہمیشہ دوحہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط رکھا ہے اور اس کے تحفظات اور اقدامات کی مکمل حمایت کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں اور اسرائیل کو بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔
