ریاض میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں خطے اور دنیا کے بدلتے حالات، انسانی بحرانوں اور عالمی تعاون پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس اجلاس کی خاص بات قطر میں منعقدہ دونوں غیر معمولی کانفرنسز کی کارروائی کو سراہنا، اسرائیل کے ظالمانہ حملوں کی مذمت اور فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ تھا۔
اجلاس کے آغاز میں کابینہ ارکان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مجلس شوریٰ کے نویں قانون ساز سال کے افتتاح پر مبارکباد پیش کی اور شاہی خطاب میں شامل قومی ترقی، سلامتی اور عالمی قیادت کے نکات کو سراہا۔ شاہی خطاب کو ریاست کی مضبوط بنیادوں اور سعودی وژن 2030 کے تابندہ سفر کا آئینہ دار قرار دیا گیا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اجلاس کو خلیج تعاون کونسل اور عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں اپنی شرکت کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں اس امر کو سراہا گیا کہ سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران پیش کیا گیا "اعلانِ نیویارک” فلسطین کے مسئلے کے پرامن، دو ریاستی حل کی عالمی کوششوں کو مضبوط کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔
کابینہ نے سوڈان میں امن اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے سعودی عرب، مصر، یو اے ای اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان کی بھی مکمل حمایت کی۔ اس موقع پر سعودی عرب کی جانب سے جمہوریہ شام کو 16 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل بطور امداد دینے کے فیصلے کو قابلِ تحسین قرار دیا گیا، جو کہ خطے کے لیے مملکت کی مستقل ہمدردی و امداد کا واضح ثبوت ہے۔
سعودی عرب کے ایٹمی توانائی کے قومی پروگرام کو بھی کابینہ نے بھرپور حمایت دی، جو سائنسی ترقی، انسانی وسائل کی بہتری اور اقتصادی خوشحالی کا ضامن ہوگا۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 69ویں اجلاس میں سعودی شرکت کو بھی قومی مفادات سے جوڑا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر کابینہ نے مختلف عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کی یادداشتوں پر دستخط کے لیے متعلقہ وزارتوں کو اختیارات تفویض کیے۔ ان میں جمہوریہ چین کے ساتھ قومی مرکز برائے سبزہ و ڈیزرٹیفیکیشن کے معاہدے کو بھی اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔
یہ اجلاس نہ صرف سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے اصولی مؤقف کا مظہر تھا بلکہ خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے اس کی قائدانہ سوچ کا ثبوت بھی۔
