متحدہ عرب امارات کی سرزمین ایک بار پھر تاریخ کے سینے سے ایک حیرت انگیز راز سامنے لائی ہے۔ ابوظبی کے جنوب مغرب میں واقع سر بنی یاس جزیرے سے ماہرینِ آثار قدیمہ نے ایک 1400 سال پرانا صلیب دریافت کیا ہے، جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ اس خطے میں صدیوں پہلے عیسائی برادری نہ صرف موجود تھی بلکہ منظم انداز میں آباد بھی تھی۔
پلاسٹر سے تیار کردہ تقریباً ایک فٹ لمبی یہ صلیب، ان گھروں میں سے ایک کے صحن سے دریافت ہوئی ہے جن کی ابتدائی کھدائی 1990ء کی دہائی میں ہوئی تھی۔ ان گھروں کا تعلق ساتویں اور آٹھویں صدی کی ایک عیسائی خانقاہی برادری سے ہے، جو اُس وقت کے خطے میں روحانیت اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت تھی۔
اس انمول دریافت کی قیادت کرنے والی ماہرِ آثار قدیمہ، ماریہ گاجیوسکا، جو ابوظبی محکمہ ثقافت و سیاحت سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ کئی دہائیوں سے یہ سوال اٹھتا رہا کہ آیا یہ مکانات واقعی کسی منظم مذہبی کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے یا محض منتشر اقامت گاہیں تھیں۔ لیکن اب اس صلیب نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ جگہ کسی عارضی قیام کی نہیں بلکہ ایک پختہ اور مربوط عیسائی برادری کا مرکز تھی۔
محکمہ ثقافت و سیاحت ابوظبی کے چیئرمین، محمد خلیفہ المبارک نے اس دریافت کو متحدہ عرب امارات کی بین المذاہب ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی پائیدار روایات کا مظہر قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سر بنی یاس جزیرے سے صلیب کا ملنا نہ صرف ماضی کی کھوج ہے بلکہ موجودہ معاشرے کی مذہبی برداشت، ثقافتی کشادگی اور تہذیبی فراخ دلی کی روشن مثال بھی ہے۔
یہ دریافت بتاتی ہے کہ عرب دنیا محض ایک مذہب یا ثقافت تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہاں صدیوں سے مختلف عقائد اور تہذیبیں نہ صرف ساتھ رہیں بلکہ باہمی احترام کے ساتھ پروان بھی چڑھیں۔
یہ صلیب ایک خاموش گواہ ہے اُس تاریخ کی، جب روحانیت، علم اور انسانیت کو سرحدوں سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ سر بنی یاس کی مٹی نے ایک ایسا خزانہ اگل دیا ہے جو آنے والی نسلوں کو اس خطے کی ثقافتی اور مذہبی تنوع کی اہمیت کا احساس دلاتا رہے گا۔ یہ دریافت صرف آثار قدیمہ کا ایک نایاب نمونہ نہیں بلکہ بین المذاہب محبت، احترام اور رواداری کی ایک روشن علامت ہے، جو موجودہ دور کے لیے بھی ایک لازوال پیغام رکھتی ہے۔
