وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا استقبال ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبد الرحمن بن عبد العزیز نے کیا۔ سعودی فضائیہ کے ایف-15 طیاروں نے سعودی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی وزیر اعظم کے طیارے کو فضائی سلامی اور حفاظتی حصار فراہم کیا، جسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
استقبالیہ تقریب میں سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور ریاض میں پاکستانی سفیر احمد فاروق بھی شریک تھے۔
وزیراعظم کے ہمراہ اہم وزرا اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد بھی ریاض پہنچا ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات مصدق ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاشی، سیاسی، دفاعی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے انتہائی اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دورے کے دوران مختلف شعبہ جات میں کئی اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو عملی اور اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کا موقع فراہم کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف نے چند روز قبل دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں فلسطین کی بگڑتی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں امن، اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کی گئی تھی۔ ریاض میں ہونے والی ملاقات کو اسی تسلسل کی کڑی سمجھا جا رہا ہے، جس میں دونوں رہنما عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کریں گے۔
ریاض کے بعد وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ برطانوی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ بعد ازاں وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور پاکستان کا مؤقف مسئلہ کشمیر، فلسطین، موسمیاتی تبدیلی اور معیشت جیسے اہم امور پر دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات میں نئی جان ڈالے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے نئے باب کا آغاز بھی کرے گا۔
