سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں قائم اقوامِ متحدہ کی سیاحت سے متعلق عالمی تنظیم (UNWTO) نے چند برسوں سے مختلف خطوں میں اپنے منصوبوں کو وسعت دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت 2021 میں اس ادارے نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنا علاقائی دفتر قائم کیا تھا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار سیاحت کو فروغ دینا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی مدد کرنا اور علاقائی و عالمی سطح پر شراکت داریوں کو وسعت دینا تھا۔ اب اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے تنظیم نے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے جسے مشرقِ وسطیٰ کے سیاحتی ڈھانچے میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ریاض میں قائم کیے گئے اس نئے مرکز کا باضابطہ اعلان اس وقت کیا گیا جب اقوامِ متحدہ کی تنظیم نے واضح کیا کہ وہ سیاحتی قانون کی نگرانی کے لیے خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی آبزرویٹری کا آغاز کر رہی ہے۔
یہ مرکز دراصل رکن ممالک کے سامنے موجود اُن پیچیدہ چیلنجز کو حل کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے جو قانون سازی اور ضوابط کی تشکیل کے عمل میں درپیش ہوتے ہیں۔ بکھرے ہوئے قانونی ڈھانچوں کو یکجا کر کے ایک ہم آہنگ فریم ورک تشکیل دینا اس اقدام کا اصل ہدف ہے تاکہ سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
یہ آبزرویٹری محض ایک ریگولیٹری ادارہ نہیں ہوگی بلکہ اسے ایک جدید ڈیجیٹل علمی پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، ماہرین، محققین اور تعلیمی ادارے اس مرکز کے ذریعے نہ صرف سیاحت سے متعلق قوانین کا جائزہ لے سکیں گے بلکہ ان میں جدت اور بہتری لا کر انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ ڈیٹ بھی کر سکیں گے۔
اس طرح یہ اقدام مقامی اور علاقائی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی قانون سازی کے عمل کو ہم آہنگ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
نئے مرکز کی سرگرمیوں میں محض ضابطہ جاتی فریم ورک ہی شامل نہیں بلکہ یہ ادارہ مختلف موضوعات پر جامع مطبوعات شائع کرے گا، پالیسی پیپرز اور سفارشات جاری کرے گا اور ساتھ ہی کانفرنسیں اور سیمینار بھی منعقد کرے گا۔ ان تقریبات کا مقصد نہ صرف سیاحت کے شعبے میں موجودہ پالیسیوں کو مزید بہتر بنانا ہے بلکہ حکمرانی کے ایسے نئے ماڈلز سامنے لانا بھی ہے جو خطے کی بدلتی ضروریات کے مطابق ہوں۔
یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی اُس طویل حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ مختلف خطوں میں خصوصی مراکز قائم کر رہی ہے۔
اس سے قبل ادارہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کے لیے ایک ایسا ہی مرکز قائم کر چکا ہے جو ارجنٹائن کے دارالحکومت مونٹیویڈیو میں بین الاقوامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے کام کر رہا ہے۔ اب ریاض میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے سیاحتی قانون کی آبزرویٹری کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنظیم اس خطے کو عالمی سیاحتی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
سعودی عرب پہلے ہی عالمی سطح پر سیاحت کو اپنی قومی معیشت کے اہم ستون کے طور پر فروغ دینے میں مصروف ہے۔ اس تناظر میں اقوامِ متحدہ کی تنظیم کا نیا مرکز نہ صرف خطے کی سیاحتی صنعت کو مستحکم کرے گا بلکہ ریاض کو عالمی سیاحتی فیصلوں کے ایک مرکز کے طور پر بھی نمایاں کرے گا۔ یہ اقدام بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ کو سیاحتی پالیسی اور قانون سازی کے میدان میں ایک نیا مقام فراہم کرنے کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے۔
