ریاض/نیویارک:سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے دنیا میں صرف ایک ہی لیڈر مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، اور وہ ہیں ڈونلڈ ٹرمپ۔ انہوں نے یہ بات ’العربیہ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی جس میں انہوں نے اسرائیل کی جاری جنگ کو صریحاً "نسل کشی کی جنگ” قرار دیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بڑھتی ہوئی عالمی مہم خوش آئند ہے، مگر صرف تسلیم کرنا کافی نہیں۔ "جو ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں، انہیں اس کی خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔”
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس نے فلسطینی ریاست کے حق میں جو کردار ادا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ یہ دونوں ممالک امریکہ کو بھی ساتھ ملائیں، کیونکہ دنیا میں صرف امریکہ ہی ایسا ملک ہے جو اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر نہیں ہے جو اس جنگ کو ختم کروا سکے۔
اسرائیلی مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرنا گویا حماس کو انعام دینا ہے، شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اصل میں تو اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور نسل کشی ہی ہیں جو حماس کو فائدہ دے رہی ہیں اور اس کے مؤقف کو مضبوط کر رہی ہیں۔ اسرائیل جتنا ظلم کرتا ہے، فلسطینی اتنا ہی اس بات پر قائل ہوتے ہیں کہ ان سے حقِ زندگی بھی چھین لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی زمینوں پر اسرائیل کی قبضہ پالیسی بھی حماس کو تقویت دے رہی ہے۔ "اسرائیل گزشتہ ساٹھ برسوں سے فلسطینی زمین چرا رہا ہے اور اب تو اس نے اسے اپنی اعلانیہ پالیسی بنا لیا ہے۔
قطر پر اسرائیلی حملے کے بارے میں سوال پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ یہ کوئی حیران کن عمل نہیں تھا بلکہ یہ اسرائیل کی اصل فطرت کا اظہار ہے۔ اسرائیل خطے میں امن کا کبھی قابلِ اعتبار شراکت دار نہیں رہا، اس کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔
