دنیا بھر میں جاری اسرائیلی جارحیت اور غزہ کے سنگین حالات کے تناظر میں سعودی عرب نے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی معاونت کے لیے ایک ہنگامی بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کے تحت 9 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ یہ اعلان نیویارک میں منعقدہ "دو ریاستی حل” پر عالمی اتحاد کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی۔
فیصل بن فرحان نے کہا کہ اب تک 159 سے زائد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال، فرانس، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، اندورا اور موناکو نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو فلسطینی عوام کی سیاسی جدوجہد کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ کی جنگ کا خاتمہ "دو ریاستی حل” کی جانب پہلا اور بنیادی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھاہم امریکا کے ساتھ مل کر جنگ روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی موقع ہے کہ 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ ان کے مطابق عرب اور اسلامی ممالک نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوشش کی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
اردن، مصر، ناروے اور یورپی نمائندہ برائے امن کے ساتھ مشترکہ کانفرنس میں فیصل بن فرحان نے کہا کہ یہ نیا اتحاد فلسطینی عوام کو انصاف دینے اور خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرے گا۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق کسی طور جھٹلائے نہیں جا سکتے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے غیر معمولی سفارتکاری شروع کر دی ہے۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے آٹھ عرب ممالک اور او آئی سی کے ارکان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی سربراہی کی۔ اس اجلاس کی میزبانی امیر قطر شیخ تمیم نے کی۔
اس موقع پر اردن کے شاہ عبداللہ، ترک صدر رجب طیب اردوان، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبيانتو، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، مصر کے وزیراعظم مصطفی مدبولی، امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بھی شریک تھے۔ شرکا نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی ترسیل ہی منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اولین شرط ہے۔
ٹرمپ نے اگلے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مجھے یقین ہے کہ ہم غزہ میں جنگ ختم کرنے کے قریب ہیں۔ مجھے اسرائیلی قیادت سے ملاقات کرنا ہوگی، لیکن میرا خیال ہے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ بہت زیادہ لوگ مر رہے ہیں، ہمیں یرغمالیوں کو رہا کرانا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں انسانی المیہ سنگین ترین مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہیں جبکہ طبی سہولیات شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری مسلسل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دے رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس کی فضائیہ نے 170 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ فوجی ترجمان آویخای ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہا کہ ان حملوں میں "مسلح عناصر، فوجی تنصیبات، اسلحے کے ذخائر اور بنیادی ڈھانچے” تباہ کیے گئے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی جانی نقصان کا شکار ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بنایا جانے والا نیا اتحاد فلسطینی اتھارٹی کو ایک مضبوط سہارا فراہم کرے گا اور بین الاقوامی سطح پر فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کو نئی طاقت دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی متحرک سفارتکاری اور عالمی برادری کا بڑھتا دباؤ اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کر سکتا ہے۔
