سعودی وزیر خارجہ، پرنس فیصل بن فرحان بن عبد اللہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران، بوسنیا و ہرزگووینا، قبرص، منگولیا اور آرمینیا کے ہم منصبوں کے ساتھ اہم مذاکرات کیے جن کا مقصد سفارتی تعلقات کو گہرا کرنا، تعاون کو فروغ دینا اور بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر مشترکہ سوچ اور حکمت عملی وضع کرنا تھا۔
مذاکرات کے دوران سب سے پہلے بوسنیا و ہرزگووینا کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پایا جس کے تحت ڈپلومیٹک، اسپیشل اور سروس پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے مختصر عرصے کے ویزے (شارٹ-اسٹے ویزے) کی شرط ختم کی جائے گی، تاکہ سرکاری سفر اور تبادلے آسان ہو سکیں۔ منگولیا کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا معاہدہ طے پایا ہے، جس سے دونوں ممالک میں سفارتکاروں اور سرکاری اہلکاروں کی آمد-ورفت میں آسانی پیدا ہوگی۔
قبرص کے ساتھ سعودی عرب نے ایک جنرل تعاون کی دستاویز پر دستخط کیے، اور ایک سمجھوتہ کیا گیا جس میں سیاسی مشاورت کے معاملات شامل ہوں گے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے وزراء اور سرکاری نمائندے باقاعدہ رابطے کریں گے، علاقائی سیکیورٹی، بین الاقوامی پالیسیاں اور مختلف دو طرفہ اور کثیر الجہتی فورمز پر ہم آہنگی بڑھائیں گے۔
آرمینیا کے ساتھ ایک یادداشت برائے مفاہمت (MoU) پر دستخط کیے گئے جن کا مقصد سیاسی مشاورت کو رسمی طور پر منظم کرنا ہے۔ دونوں فریقین نے کہا ہے کہ سفارتی تعلقات کا قیام، جو گزشتہ سال نومبر میں ہوا، ایک نقطہ آغاز تھا، اور اب وہ تجارت، خدمات، سیاحت، انفراسٹرکچر، تعلیم، اور سرمایہ کاری کے معاملات پر ٹھوس منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں۔ آرمینی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے جنوبی قفقاز میں مستقل امن کے خواب کے تحت ایک منصوبہ “Crossroads of Peace” تجویز کیا ہے، جس سے خطے میں سیاسی استحکام، تعاون اور ترقی کو فروغ ملے گا۔
مذاکرات کے دوران بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال اکثر زیرِ بحث رہی۔ سعودی عرب نے اپنے گفت و شنید کے فریم ورک کو مضبوط کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ علاقائی سلامتی، انسانی امور، عالمی تغیرات اور مشترکہ مفادات کے حوالے سے متعلق ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ سیاسی مشاورت کی دستاویزات، ویزا مراعات، اور جنرل معاہدے وہ راستے ہیں جن سے تعلقات باضابطہ اور زیادہ فعال ہوں گے۔
یہ تمام اقدامات محض سرکاری بیانات نہیں ہیں؛ یہ مستقبل کی عملی اور قانونی خدمات کا حصہ ہیں۔ ویزا معافی سے سفارتکار اور سرکاری اہلکار بغیر پیچیدگیوں کے سفر کر سکیں گے۔ سیاسی مشاورت کی یادداشتیں دونوں ممالک کے وزراء کو معمول کے تبادلے اور ازسرنو ملاقاتوں کا موقع دیں گی، تاکہ فیصلے جلد اور مربوط طریقے سے کیے جا سکیں۔
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں یہ معاہدے جزوی طور پر Vision 2030 کے اہداف کے عکاس ہیں، جن میں بین الاقوامی شراکت، اقتصادی تعاون، ثقافتی تبادلے اور عالمی اثر و رسوخ کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔
نیز یہ اقدامات صرف علاقائی اثرات تک محدود نہیں، بلکہ یوریشیا، یورپ اور وسطی ایشیا میں سعودی عرب کے تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش ہیں۔
قبرص کے ساتھ تعاون کو بحیثیت یورپی شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے گا، جہاں سرمایہ کاری، آمد و رفت، کاروبار اور سیاحتی مواقع اہم ہوں گے۔ آرمینیا کی "Crossroads of Peace” منصوبہ بندی نے اسے ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے، خاص طور پر جنوبی قفقاز میں جہاں استحکام، رابطے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے امکانات کھلے ہیں۔
اگرچہ علامتی اہمیت نمایاں ہے، مگر ان معاہدوں کو کامیاب ثابت کرنے کے لیے عمل درآمد، قانونی ڈھانچے کی تشکیل، ویزا اسکیمز کے نفاذ، سرکاری اور نجی شعبے کے مؤثر رابطے، اور مسلسل سیاسی مکالمے کی ضرورت ہوگی۔ مگر سعودی عرب کا ارادہ واضح ہے کہ یہ معاہدے تعلقات کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اور دیرپا اثرات بھی پیدا کریں۔
اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب نے بوسنیا و ہرزگووینا، قبرص، منگولیا اور آرمینیا کے ساتھ کئی نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن کا دائرہ سفر، سیاسی مشاورت، تعاون اور اقتصادی مفادات تک وسیع ہے۔ یہ اقدامات سعودی خارجہ تعلقات کی پختگی اور عالمی امور میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت ہیں۔
