سعودی عرب نے ایک اور عالمی ماحولیاتی سنگ میل اپنے نام کر لیا ہے کیونکہ مملکت جدہ شہر میں 29 ستمبر سے یکم اکتوبر تک جنگلات اور چراگاہوں کے موضوع پر خطے کی سب سے بڑی بین الاقوامی بیٹھک کی میزبانی کرے گا۔ یہ اجلاس ’’نیر ایسٹ فاریسٹری اینڈ رینج کمیشن‘‘ کا ستائیسواں اجلاس ہے، جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) اور سعودی عرب کے نیشنل سینٹر برائے ویجیٹیشن کور ڈویلپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹفیکیشن کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے۔
اجلاس کا بنیادی مقصد جدید اور مربوط حکمتِ عملیوں کے ذریعے خطے میں موجود جنگلات اور چراگاہوں کے اصل امکانات کو اجاگر کرنا ہے تاکہ بدلتے ہوئے موسم کے اثرات پر قابو پایا جا سکے، خوراک کے نظام کو زیادہ پائیدار بنایا جا سکے اور دیہی معاشرت کو ترقی کے ایسے مواقع دیے جا سکیں جو قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
اس کانفرنس میں ایسے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے جو براہِ راست موجودہ عالمی ماحولیاتی چیلنجوں سے جڑے ہیں۔ مثال کے طور پر اس بات پر تبادلۂ خیال ہوگا کہ کس طرح جنگلاتی شعبے کو زرعی نظام سے بہتر طور پر جوڑا جا سکتا ہے تاکہ زرعی و ماحولیاتی معیشت دونوں کو فائدہ پہنچے۔ اسی طرح ان طریقوں پر بھی غور ہوگا جن کے ذریعے بگڑی ہوئی زمینوں اور تباہ شدہ ماحولیاتی نظاموں کو بحال کیا جا سکے۔
خشک سالی اور بڑھتی ہوئی صحراؤں سے نمٹنے کے لیے عملی منصوبے بھی کانفرنس کی اہم توجہ ہوں گے۔ اس دوران ’’گرین سٹیز‘‘ کے تصور کو بھی نمایاں کیا جائے گا، جس کے تحت شہروں کو اس انداز میں ترقی دینا شامل ہے کہ وہ ماحولیاتی طور پر زیادہ دوست ہوں۔ ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی بات ہوگی تاکہ زمین کے نظاموں کو زیادہ لچکدار اور موسم کی شدت کے خلاف مضبوط بنایا جا سکے۔
سعودی وزیرِ ماحولیات، پانی اور زراعت انجینئر عبدالرحمٰن الفضلی نے کہا کہ یہ اجلاس اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مملکت پائیدار ماحولیات کے فروغ کے لیے سنجیدہ عزم رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، سعودی عرب کا یہ کردار خاص طور پر اہمیت اختیار کرتا ہے کیونکہ فی الحال مملکت اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کومبیٹ ڈیزرٹفیکیشن (UNCCD) کے سولہویں اجلاس کی صدارت بھی کر رہا ہے۔
یہ عالمی نشست براہِ راست سعودی ویژن 2030 اور سعودی گرین انیشی ایٹو کے ساتھ منسلک ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف فضائی آلودگی اور کاربن اخراج کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ خطے میں زمین اور سمندری وسائل کے تحفظ کو بھی نئی جہت دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹو بھی ایک اہم قدم ہے جو سعودی عرب کی قیادت میں خطے کے دیگر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک مشترکہ محاذ پر اکٹھا کرنے کی کوشش ہے۔
یہ اجلاس اس بات کا بھی واضح اظہار ہے کہ سعودی عرب خطے میں محض توانائی یا تیل کی دولت کے لیے نہیں جانا چاہتا بلکہ وہ ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو دنیا کو ماحولیاتی حل اور پائیدار ترقی کے نئے راستے دکھا رہا ہے۔ جدہ میں ہونے والا یہ اجلاس بلاشبہ اس سمت میں ایک تاریخی قدم ہے جس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطے مستفید ہوں گے۔
