سعودی عرب نے ایک بار پھر بین الاقوامی ہوابازی کے میدان میں اپنی طاقتور اور مستحکم حیثیت ثابت کرتے ہوئے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کی کونسل کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ کینیڈا کے شہر مونٹریال میں منعقد ہونے والی 42ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جب رکن ممالک نے اپنے ووٹ ڈالے تو سعودی عرب کو زبردست اعتماد کا ووٹ ملا۔ 184 ممالک میں سے 175 نے سعودی عرب کے حق میں رائے دی، جو نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر مملکت پر موجود اعتماد اور احترام کا اظہار بھی ہے۔
یہ کامیابی محض ایک نشست کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب دنیا کی ہوابازی کی پالیسیوں اور قوانین کے تعین میں کس قدر اہم اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ آئی سی اے او کونسل 36 ممالک پر مشتمل ہے اور اس میں شمولیت صرف ان ریاستوں کو ملتی ہے جو عالمی ہوابازی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
اس وقت امریکہ، فرانس، برطانیہ اور سنگاپور جیسے بڑے ممالک بھی کونسل کے رکن ہیں، اور سعودی عرب کا ان میں شامل رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری اس کی آواز کو توجہ سے سنتی ہے اور اس پر اعتماد کرتی ہے۔
سعودی عرب کا آئی سی اے او کونسل میں یہ تسلسل 1986 سے جاری ہے۔ تقریباً چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس ادارے کا رکن رہنے کے بعد مملکت نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی اور اثرورسوخ رکھتا ہے۔
اس عرصے میں مملکت نے اپنے فضائی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا، نئے ہوائی اڈے تعمیر کیے، بین الاقوامی معیارات کے مطابق اپنی فضائی خدمات کو ڈھالا اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔
اس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز اور جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے چیئرمین صالح الجاسر نے کہا کہ یہ کامیابی محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ مملکت کے دیرینہ عزم اور مسلسل محنت کا انعام ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1945 میں جب سعودی عرب نے اپنی پہلی قومی ایئر لائن قائم کی تو اس وقت ہی یہ عزم کر لیا گیا تھا کہ ہوابازی کا شعبہ صرف سفری سہولت نہیں رہے گا بلکہ قومی ترقی، عالمی روابط اور مستقبل کی معیشت کا اہم حصہ بنے گا۔ آج سات دہائیوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ سعودی عرب کا یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
مونٹریال میں ہونے والے اجلاس کے دوران سعودی عرب نے ایک اور نمایاں اقدام کیا جس نے اس کی ذمہ دارانہ سوچ کو مزید اجاگر کیا۔ مملکت نے ’’نو کنٹری لیفٹ بی ہائنڈ‘‘ پروگرام کے لیے ایک ملین ڈالر کی مالی مدد کا اعلان کیا۔
اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ بھی بین الاقوامی معیار پر ہوابازی کے قوانین اور حفاظتی تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ سعودی عرب کی اس پیشکش نے یہ پیغام دیا کہ وہ محض اپنے مفادات کے لیے نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی ترقی اور یکساں مواقع کے لیے کوشاں ہے۔
یہ کامیابی سعودی عرب کی وژن 2030 کی حکمت عملی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ مملکت نے اپنی نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس اسٹریٹجی میں واضح اہداف مقرر کیے ہیں کہ وہ 2030 تک دنیا کا ایک بڑا لاجسٹک مرکز بنے گا۔
اس منصوبے کے تحت سالانہ تین سو تیس ملین سے زیادہ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے، ڈھائی سو سے زائد بین الاقوامی مقامات سے براہ راست پروازوں کا انتظام کرنے اور ہوابازی کے شعبے میں سو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسے بڑے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں، جسے مستقبل کا سب سے بڑا فضائی مرکز کہا جا رہا ہے۔ اسی طرح ریڈ سی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دنیا کا پہلا ایسا مکمل طور پر پائیدار ہوائی اڈہ بنایا جا رہا ہے جو قابل تجدید توانائی پر چلتا ہو۔
سعودی عرب نے صرف ڈھانچے اور سہولیات پر ہی توجہ نہیں دی بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ مملکت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2050 تک اپنی ہوابازی کے شعبے کو خالص صفر کاربن کے اخراج کے مطابق بنا دے گا۔
اس مقصد کے لیے نئے جہاز، پائیدار ایندھن، ماحول دوست ہوائی اڈے اور جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ حج کے دوران خودکار ایئر ٹیکسی کا تجربہ اسی وژن کی ایک جھلک ہے، جس نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی اور یہ ظاہر کیا کہ سعودی عرب ہوابازی کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔
عالمی سطح پر اپنی موجودگی کے ساتھ ساتھ مملکت خطے میں بھی قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ عرب سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کونسل کی قیادت کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کوآپریٹو ایوی ایشن سیکیورٹی پروگرام کے ہیڈکوارٹر کی میزبانی بھی کر رہا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب صرف اپنے ملک کے لیے نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
آئی سی اے او کی جنرل اسمبلی ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب دنیا بھر کی ہوابازی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی پروازوں کی طلب، کاربن کے اخراج کو کم کرنے کا دباؤ، پائیدار ایندھن کے فروغ کی ضرورت اور جدید نیویگیشن سسٹمز کے نفاذ جیسے مسائل عالمی سطح پر ایجنڈے میں شامل ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب کی دوبارہ کامیابی اسے یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ عالمی فیصلوں میں ایک توازن قائم کرے، ترقی پذیر ممالک کے مفادات کی نمائندگی کرے اور ساتھ ہی اپنی قومی پالیسیوں کو دنیا کے بڑے فیصلوں کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔
175 ووٹوں کی بھاری اکثریت صرف ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک علامتی پیغام ہے کہ دنیا سعودی عرب پر بھروسہ کرتی ہے اور اسے ایک ذمہ دار پارٹنر سمجھتی ہے۔ یہ اعتماد اس بات کا اعلان ہے کہ سعودی عرب آنے والے برسوں میں بھی عالمی ہوابازی کی پالیسی سازی کے مرکز میں رہے گا اور اپنی سوچ، وژن اور اقدامات کے ذریعے اس شعبے کے مستقبل کو تشکیل دینے میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔
