جدہ میں آج ایک نہایت اہم اجلاس کا آغاز ہوا جس میں مشرقِ قریب کے جنگلات اور چراگاہوں سے متعلق مسائل پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس تین روز جاری رہے گا اور اس کا مقصد خطے میں موجود قدرتی وسائل کے تحفظ، ان کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی وضع کرنا ہے۔
افتتاحی نشست میں بتایا گیا کہ مشرقِ قریب کے خطے میں جنگلات کا رقبہ 42 ملین ہیکٹر سے بھی زیادہ ہے جبکہ قدرتی چراگاہیں تقریباً 303 ملین ہیکٹر پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان وسائل پر لاکھوں افراد کی زندگی اور روزگار کا انحصار ہے، اور یہی قدرتی ذخائر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاہم، ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدرتی دولت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، زمین کی زرخیزی میں کمی، صحرائی علاقوں کا پھیلاؤ اور انسانی بے احتیاطیاں ان وسائل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دنیا بھر میں اس وقت اندازاً 40 فیصد زمین متاثر ہوچکی ہے، جس کے اثرات 3.2 ارب انسانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس تنزلی کے باعث آئندہ برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ متوقع ہے جبکہ 75 فیصد میٹھے پانی کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، جنگلات اور سبزہ زاروں کے ختم ہونے سے 50 فیصد سے زائد حیاتیاتی تنوع** متاثر ہوتا ہے اور کاربن کے اخراج میں بھی کم از کم 24 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب نے ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے اور انقلابی منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں "سعودی گرین انیشی ایٹو” اور "مڈل ایسٹ گرین انیشی ایٹو” ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت صرف مملکت کے اندر 10 ارب درخت لگانے اور تقریباً 40 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پورے خطے میں اس پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے 50 ارب درخت لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اب تک قومی شجرکاری پروگرام کے تحت مختلف اداروں اور شعبوں کی شراکت داری سے 151 ملین سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں اس کے علاوہ، 5 لاکھ 5 ہزار ہیکٹر زمین کو دوبارہ زرخیز بنایا گیا ہے جو پہلے ماحولیاتی انحطاط کا شکار تھی۔
اجلاس کے شرکاء اس بات پر بھی غور کریں گے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمتِ عملی کو استعمال کرتے ہوئے جنگلات اور چراگاہوں سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ انہیں زرعی پیداوار اور دیہی ترقی کے استحکام کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اجلاس میں اس بات پر بھی بات چیت ہوگی کہ کس طرح ان اقدامات کے ذریعے غربت میں کمی، پانی کے وسائل کا تحفظ اور دیہی آبادیوں کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
یہ اجلاس مشرقِ قریب کے ممالک کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مشترکہ اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کریں اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر، سرسبز اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
