ریاض میں وزارتِ ثقافت کی جانب سے منعقدہ ’’کلچرل انویسٹمنٹ کانفرنس‘‘ کا سلسلہ کل بھی جاری رہا جہاں ساتواں اجلاس "عالمی ثقافت: اثر، سرمایہ اور جوڑنے والی طاقت” کے عنوان کے تحت ہوا۔ یہ اجلاس اپنی نوعیت کے اعتبار سے خاصا اہم رہا کیونکہ اس میں نمایاں شخصیات شریک تھیں اور ساتھ ہی یہ اس وقت ہوا جب سعودی عرب اپنی ثقافتی پالیسیوں کو تیزی سے عالمی منظرنامے پر اجاگر کر رہا ہے۔
اس اجلاس میں مرکزی خطاب فرانس کی ایجنسی برائے ترقیِ العُلا کے چیئرمین ژاں ایو لو دریان نے کیا، جبکہ معروف کیوریٹر اور مصنف نکولا بوریو موڈریٹر کے طور پر موجود تھے۔ لو دریان نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ ثقافتی لوکلائزیشن اب محض ایک اضافی پہلو نہیں رہا بلکہ یہ ایک حکمتِ عملی کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کسی بھی قوم کی شناخت کو مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان کے مطابق ثقافت صرف ماضی کی وراثت کا آئینہ نہیں بلکہ ایک فعال قوت ہے جو قومی تشخص کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ عالمی سطح پر ثقافتی کردار ادا کرے، بشرطیکہ تعلیم، تخلیقی صلاحیتوں کی پرورش اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کی جائیں۔
لو دریان نے کہا کہ تعلیم کو محض نصابی حدود میں قید کرنے کے بجائے طلبہ اور نوجوان نسل میں جدت پسندی، خود سیکھنے کی صلاحیت اور مختلف شعبوں کو جوڑنے والی سوچ پیدا کرنا ہوگی۔ ان کے نزدیک کامیابی کے تین ستون ہیں: ثقافت، ہنر اور تعلیم۔ اگر ان تینوں پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی جائے تو نتائج دیرپا اور عالمی اثر رکھنے والے ہوں گے۔
انہوں نے سعودی عرب اور فرانس کے درمیان العُلا کے منصوبے کو ایک کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان فنون اور ثقافت کے میدان میں جو تعاون جاری ہے وہ محض علامتی نہیں بلکہ حقیقی تبادلے اور مشترکہ سیکھنے کا ذریعہ ہے۔ فرانسیسی مجسمہ ساز اور فنکار پہلے ہی سعودی آرٹسٹوں کے ساتھ مل کر کام شروع کر چکے ہیں اور آئندہ کئی منصوبوں میں یہ تعاون مزید وسیع ہوگا۔ لو دریان کے مطابق یہ شراکت ایک ایسا ماڈل ہے جو باہمی عزت اور ثقافتی انفرادیت کے تحفظ پر قائم ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ثقافت میں سرمایہ کاری جلدی نتائج نہیں دیتی بلکہ یہ ایک طویل المدتی عمل ہے جس کے ثمرات وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ لیکن ایک بار جب یہ جڑ پکڑ لے تو اس کے اثرات سیاحت، عالمی تشخص اور نرمی پر مبنی طاقت (سافٹ پاور) کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
یہ کانفرنس جسے ’’کلچرل انویسٹمنٹ کانفرنس‘‘ کہا جا رہا ہے، 29 اور 30 ستمبر کو کنگ فہد کلچرل سینٹر میں منعقد کی گئی۔ اس میں درجنوں مکالماتی نشستیں اور سو سے زائد مقررین شریک ہوئے جن میں دنیا بھر کے سرمایہ کار، پالیسی ساز، ماہرین اور تخلیق کار شامل تھے۔ مقصد یہ تھا کہ ثقافت کو صرف تفریح یا ورثے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک صنعت اور سرمایہ کاری کے مستقل موقع کے طور پر سامنے لایا جائے۔ سعودی وزارتِ ثقافت کے مطابق یہ اجلاس اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مملکت ثقافتی معیشت کو قومی ترقی کے منصوبے میں بنیادی ستون کے طور پر شامل کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی کلچرل ڈیولپمنٹ فنڈ نے حال ہی میں ’’نما ایکسیلریٹرز‘‘ پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت مختلف شعبوں میں ثقافتی کاروبار اور چھوٹے منصوبوں کو تربیت، سرمایہ اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ ہنڈی کرافٹس سے شروع کیا گیا ہے تاکہ مقامی دستکاروں اور کاریگروں کو عالمی سطح پر نمایاں ہونے کا موقع ملے۔ اس کے ساتھ ساتھ فنڈ نے مختلف بین الاقوامی نمائشوں اور میلوں میں سعودی ثقافت کو اجاگر کرنے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
العُلا کے حوالے سے بھی یہ جاننا ضروری ہے کہ فرانس کی یہ ایجنسی سعودی عرب کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت قائم ہوئی تھی تاکہ اس تاریخی خطے کی بحالی، ورثے کے تحفظ اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ لو دریان کی قیادت میں اس ادارے نے نہ صرف منصوبہ بندی کو مربوط کیا بلکہ مقامی لوگوں کی شمولیت اور پائیدار ترقی پر بھی زور دیا ہے۔ وہ اس بات کے حامی ہیں کہ سیاحت اور ثقافت کے ساتھ ساتھ زرعی سرگرمیوں اور مقامی روزگار کو بھی ترقی دی جائے تاکہ العُلا کا مستقبل صرف تاریخی عمارتوں تک محدود نہ رہے بلکہ ایک زندہ اور متحرک کمیونٹی کے طور پر ابھرے۔
گزشتہ برس سعودی اور فرانسیسی حکام کی ملاقاتیں پیرس میں ہوئیں جہاں العُلا کے منصوبوں پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں ملکوں نے اس تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ سعودی وزارتِ ثقافت کے مطابق یہ شراکت داری صرف فنکارانہ تعاون تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی گہرائی اختیار کر رہی ہے۔
اس اجلاس میں لو دریان نے جس نکتے پر سب سے زیادہ زور دیا وہ یہ تھا کہ سعودی عرب اپنی ثقافتی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے عالمی سطح پر کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق لوکلائزیشن کا مطلب دنیا سے کٹ جانا نہیں بلکہ دنیا کے خیالات کو اپنی عینک سے دیکھنا اور اپنی زبان و شناخت میں ڈھالنا ہے۔ یہ عمل ہی کسی ملک کو اصل معنوں میں ’’ثقافتی خود مختاری‘‘ عطا کرتا ہے۔
یہ کانفرنس سعودی عرب کے اس بدلتے ہوئے رخ کی جھلک تھی جس میں ثقافت کو معیشت، سیاحت اور عالمی ساکھ کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی حکمتِ عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔ جہاں اکثر ممالک میں ثقافت کو صرف روایتی تقریبات یا تفریح تک محدود سمجھا جاتا ہے، وہاں سعودی عرب اسے قومی ترقی کے ایجنڈے کا مرکزی حصہ بنا رہا ہے۔
کل کا اجلاس اس بات کی یاد دہانی تھا کہ اگر تعلیم، تخلیقی صلاحیت اور مقامی ہنر کو یکجا کر کے طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے تو ثقافت نہ صرف قومی وقار بڑھاتی ہے بلکہ عالمی منظرنامے پر بھی ایک دیرپا نشان چھوڑتی ہے۔
