ریاض: سعودی وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے کہا ہے کہ مختلف پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے مواد میں منفی یا سطحی مواد کا تناسب محض ایک فی صد ہے، جبکہ 99 فیصد مواد مثبت نوعیت کا ہے، جو عوامی آگاہی میں اضافہ کرتا ہے، علم کو فروغ دیتا ہے اور سعودی ثقافتی اقدار کو دنیا کی مختلف زبانوں میں اجاگر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی میڈیا دراصل قومی تشخص اور سماجی اقدار کی نمائندگی کر رہا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔
یہ بات انہوں نے ایک حکومتی پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتےہوئے کہی، جہاں انہوں نے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے جاری کردہ نئے ضوابط کی وضاحت بھی کی۔ ان کے مطابق یہ ضوابط مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے نہ صرف واضح اصول فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں میڈیا قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے اس نئے فریم ورک کا مقصد تخلیق کاروں کو پابند بنانا نہیں بلکہ ان کے لیے مثبت سمت کا تعین کرنا ہے۔
سلمان الدوسری نے وضاحت کی کہ حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا کے چند مشہور افراد کی ویڈیوز میں متعدد ایسی خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن میں فحش زبان، ذاتی دولت، گاڑیوں اور جائیداد پر فخر، قبائلی نسب پر مباہات اور ایسے رویے شامل تھے جو نسل پرستی، فرقہ واریت یا قومی و سماجی اقدار کی منفی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے بقول، اس صورتحال نے ریگولیٹری اتھارٹی کو مداخلت کرنے اور نئی پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کیا تاکہ معاشرتی توازن اور اقدار کا تحفظ کیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ اتھارٹی نے مواد تخلیق کرنے والوں کے ساتھ ایک خصوصی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا تاکہ ان ضوابط کی وضاحت کی جا سکے اور تخلیق کاروں کو اس بات کی رہنمائی دی جا سکے کہ کس طرح وہ عوامی اعتماد حاصل کر کے اپنے مواد کو زیادہ بامقصد بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس عمل کا مقصد تخلیق کاروں کو روکنا یا محدود کرنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو مثبت اور بامعنی راستوں پر گامزن کرنا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ منفی مواد کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار صرف ضوابط نہیں بلکہ معاشرتی شعور اور عوامی رویہ ہے۔ ان کے الفاظ میں سطحی مواد بنانے والوں کے لیے سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ معاشرہ انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دے۔ جب لوگ ایسے مواد پر توجہ دینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔
سلمان الدوسری نے کہا کہ سعودی معاشرہ ہمیشہ سے اپنی اقدار اور ثقافتی ورثے پر فخر کرتا آیا ہے اور میڈیا کا کردار ان اقدار کی ترویج اور حفاظت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سماجی اقدار اور قومی شناخت کا تحفظ ایک ایسا اصول ہے جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، سعودی عوام نہ صرف ان اقدار کے اصل محافظ ہیں بلکہ اپنی اجتماعی قوت کے ذریعے ان کی مسلسل پاسداری کو یقینی بناتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکومت اور ریگولیٹری ادارے مستقبل میں بھی میڈیا کے معیار کو بلند رکھنے اور تخلیق کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عوام کواقدار اور شناخت کے اصل امین قراردیا اورکہا کہ یہی وجہ ہے کہ سعودی میڈیا عالمی سطح پر بھی اپنی منفرد پہچان قائم کر رہا ہے۔
یہ جامع پالیسی اور ضوابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب نہ صرف جدید میڈیا کے رجحانات سے ہم آہنگ ہے بلکہ اپنی اقدار اور شناخت کو بھی ساتھ لے کر چل رہا ہے۔
