ریاض/پیرس: سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے "ڈیٹا اینڈ آرٹیفشل انٹیلی جنس اتھارٹی” (SDAIA) کے ذریعے یونیسکو کے تحت قائم گلوبل نیٹ ورک آف آرٹیفشل انٹیلی جنس سپروائزری(GNAIS) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ اقدام مملکت کو نہ صرف مصنوعی ذہانت کی عالمی پالیسی سازی اور نگرانی میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل کی جانب بھی ایک بڑی پیشرفت ہے۔
یونیسکو ہیڈکوارٹر، پیرس میں منعقدہ GNAIS کے پہلے اجلاس میں سعودی عرب نے بھرپور شرکت کی، جہاں رکن ممالک اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے نیٹ ورک کے بنیادی اصول، عملی منصوبے، تربیتی وسائل اور صلاحیت سازی کے ڈھانچے پر جامع تبادلہ خیال کیا۔
سعودی عرب کی اس شمولیت سے مملکت کو بین الاقوامی ماہرین کے تجربات اور بہترین عالمی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ اس سے جدید پالیسی ڈھانچے اور نگرانی کے نظام قائم کرنے میں مدد ملے گی جو نہ صرف قومی سطح پر صلاحیتوں کو بڑھائیں گے بلکہ عالمی تعاون کو بھی مزید گہرا کریں گے۔
یہ نیٹ ورک دنیا بھر کے نگران اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے تاکہ تجربات کا تبادلہ کیا جا سکے اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں اخلاقیات، معیارات اور نگرانی کے یکساں اصول وضع ہوں۔ اس سے تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے اثرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی GNAIS میں شمولیت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ مملکت مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں اور ذمہ دار کردار ادا کر رہی ہے۔ SDAIA کے جدید اقدامات اور رہنما منصوبے سعودی عرب کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے محفوظ اور شفاف استعمال کا ایک قابلِ تقلید ماڈل بنا رہے ہیں۔
