دسمبر 2024 میں دنیا کے سب سے طویل ڈرائیور لیس میٹرو سسٹم کے عوام کے لیے افتتاح کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض نے ایک نئی پہچان حاصل کر لی ہے۔ 22 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا یہ منصوبہ صرف سفری سہولت نہیں بلکہ اپنی شاندار تعمیرات، جدید سہولیات اور آرکیٹیکچرل حسن کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کو متوجہ کر رہا ہے۔
176 کلومیٹر پر پھیلا یہ میٹرو سسٹم 6 لائنوں اور 85 اسٹیشنز پر مشتمل ہے۔ حکام کے مطابق مکمل آپریشن کے بعد روزانہ 36 لاکھ سے زائد افراد اس سے استفادہ کر سکیں گے، بالخصوص ایکسپو 2030 اور فیفا ورلڈ کپ 2034 جیسے بڑے عالمی ایونٹس کے دوران۔
قصر الحکم اسٹیشن، جسے ناروے کی کمپنی Snøhetta نے ڈیزائن کیا، فروری 2025 میں کھولا گیا اور اب یہ ریاض کے نمایاں سیاحتی مقامات کا حصہ بن چکا ہے۔ 7 منزلوں پر مشتمل یہ اسٹیشن 22 ہزار اسکوائر میٹر پر پھیلا ہوا ہے، جہاں دکانیں، انڈور گارڈن اور آرٹ ڈسپلے مسافروں کے لیے منفرد تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ اسٹیشن، جسے عالمی شہرت یافتہ زاہا حدید آرکیٹیکٹس نے ڈیزائن کیا، سب سے زیادہ مصروف ترین اسٹیشن کے طور پر ابھر رہا ہے۔
دیگر نمایاں اسٹیشنز جیسے ویسٹرن اسٹیشن اور ایس ٹی سی اسٹیشن بھی اپنے جدید ڈیزائن اور توانائی بچت کے لیے سولر پینلز سے لیس ہونے کی بدولت مسافروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ میٹرو کی ٹرینوں میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک مردوں کے لیے، دوسرا خاندانوں کے لیے اور تیسرا فرسٹ کلاس کے لیے۔ ان بوگیوں کو ایک فرانسیسی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے جن کے اندرونی حصے ریاض کی روایتی طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
عوام کے لیے کرایے نہایت سہل رکھے گئے ہیں۔ 2 گھنٹے کے لیے 4 ریال، تین دن کے لیے 20 ریال اور ایک ماہ کے لیے 140 ریال میں لامحدود سفر کی سہولت دستیاب ہے۔ افتتاح کے ابتدائی 11 ہفتوں میں ہی ایک کروڑ 80 لاکھ افراد میٹرو پر سفر کر چکے ہیں، جبکہ چھ ماہ کے اندر اندر مسافروں کی تعداد 10 کروڑ سے بڑھ گئی۔
حکام کے مطابق اب اس منصوبے کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور ساتویں لائن شامل کرنے پر کام جاری ہے، جو ریاض کو دنیا کے جدید ترین شہروں میں شمار کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ثابت ہوگا۔
