آج سعودی عرب کی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔ اجلاس کا آغاز ولی عہد نے ان جذبات کے اظہار سے کیا کہ مملکت کی 95ویں قومی یومِ تاسیس کے موقع پر مختلف دوست ممالک اور برادر قیادتوں کی جانب سے جو مبارکبادی پیغامات موصول ہوئے ہیں، وہ سعودی عرب کی عالمی سطح پر عزت و وقار کی گہری علامت ہیں۔
انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ مملکت جس امن، ترقی اور خوشحالی سے گزر رہی ہے وہ قابلِ فخر ہے اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کی جانب یہ ایک مضبوط قدم ہے۔
اجلاس میں بیرونی تعلقات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ارکانِ کابینہ کو پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ’’اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ‘‘ طے پایا، جو خطے میں سیکورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بنے گا۔ یہ معاہدہ 17 ستمبر کو ریاض میں ہوا تھا اور اسے خلیجی و جنوبی ایشیائی خطے کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب کی نمائندگی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس اور اس کے ساتھ منعقدہ مختلف عالمی فورمز میں انتہائی مؤثر رہی۔ ان کے مطابق یہ سرگرمیاں سعودی کردار کو عالمی امن، سفارت کاری اور انصاف کے فروغ کے لیے ایک مضبوط آواز کے طور پر اجاگر کرتی ہیں۔
اجلاس کے دوران فلسطین کا مسئلہ بھی زیرِ بحث آیا۔ کابینہ نے عالمی سطح پر ان ممالک کی تعداد بڑھنے پر خوشی کا اظہار کیا جنہوں نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِ نو اور انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق جامع منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا۔ سعودی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو۔
بین الاقوامی اداروں میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی موجودگی بھی اجلاس کا مرکزی نکتہ رہی۔ حال ہی میں مملکت کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی برادری سعودی عرب پر توانائی اور سلامتی کے شعبے میں بھرپور اعتماد رکھتی ہے۔
اسی طرح عالمی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کی کونسل میں بھی سعودی عرب نے 175 ووٹ حاصل کر کے اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔
ماحولیاتی تحفظ پر گفتگو کرتے ہوئے کابینہ نے اس خوشی کا اظہار کیا کہ امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو کو یونیسکو کے ’’مین اینڈ بایوسفیئر پروگرام‘‘ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ حیاتیاتی تنوع اور پائیدار ترقی کو اپنی قومی پالیسیوں کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
اجلاس میں کئی نئے منصوبوں اور معاہدوں کی بھی منظوری دی گئی۔ ان میں سے چند اہم فیصلے درج ذیل ہیں. وزیر ماحولیات و پانی کو صومالیہ کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا اختیار دینا. وزیر سرمایہ کاری کو مراکش کے ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی تحفظ سے متعلق معاہدہ کرنے کی اجازت. وزیر تعلیم کو جنوبی کوریا کے ساتھ طبی تعلیم اور تحقیق میں تعاون بڑھانے کی ہدایت۔ سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (SDAIA) کو اسلامی دنیا کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (ICESCO) کے ساتھ شراکت داری پر بات چیت کرنے کا اختیار۔
سیاحت کے میدان میں سعودی ٹورازم ڈیولپمنٹ فنڈ کو ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی رکنیت دلوانے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ وزیر خزانہ کو ’’ایزی بینک‘‘ کے لائسنس کے اجرا کے لیے فریم ورک تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
اندرونِ ملک ترقیاتی منصوبوں میں مشرقی ریجن کو خاص اہمیت دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پانی، ماحولیات اور زرعی شعبے میں 122 منصوبے شروع یا مکمل کیے جائیں گے جن پر 28.8 ارب ریال سے زیادہ لاگت آئے گی۔ ان منصوبوں کا مقصد پانی کی فراہمی، ذخیرہ اور تقسیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ مستقبل کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ تمام فیصلے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہیں، جو سعودی عرب کو ایک متنوع معیشت، مضبوط معاشرتی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کی جانب لے جا رہا ہے۔
یہ اجلاس محض حکومتی کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک جامع اعلان تھا جس میں دفاعی تعاون، عالمی اداروں میں کامیابیاں، فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی، ماحولیاتی اقدامات، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور اندرونِ ملک ترقیاتی منصوبوں کو یکجا کیا گیا۔ یہ سب مملکت کے اس بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتا ہے جو وہ خطے اور دنیا دونوں میں ادا کر رہی ہے۔
