ریاض: سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور سابق سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے قطر پر اسرائیلی حملے کو خلیجی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ریاستوں کو اپنی سلامتی کی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں "ڈین آف ایمبیسڈرز گالا ڈنر” سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیل کو "مسترد شدہ ریاست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا واقعہ نہ صرف جارحیت بلکہ کھلی غداری کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملہ محض ایک ملک پر نہیں بلکہ پورے خلیجی خطے کی سلامتی پر کاری ضرب ہے۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کو اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اگرچہ اس حملے میں حماس کی مرکزی قیادت محفوظ رہی، لیکن اس واقعے نے خطے میں شدید تشویش پیدا کر دی۔ حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے قطر سے معافی مانگی، تاہم اس اقدام کو علاقائی سطح پر مزید بےاعتمادی اور اضطراب کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے اپنے خطاب میں فلسطینی مزاحمت کے بنیادی اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فلسطینی علاقوں پر ناجائز قبضہ ختم کر دیا جائے تو مزاحمت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ صرف مزید بگاڑ پیدا ہوگا۔
سابق انٹیلی جنس چیف نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے خلیجی ریاستوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خطے میں ان کی اپنی سلامتی کتنی نازک ہو گئی ہے۔ ان کے بقول، "یہ وقت ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی سے متعلق پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف ان کی سرحدوں کو محفوظ بنائیں بلکہ پورے خطے کو ایک مستحکم مستقبل کی طرف لے جائیں۔”
شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیل کو غیرقانونی اور غیرقابلِ قبول ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اسرائیلی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی تاکہ اس خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کی وحدت کے لیے بھی چیلنج بن سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خطے میں پہلے ہی ایران، یمن اور لبنان کی صورتِ حال نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل کی یہ وارننگ اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ خلیجی خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قطر پر اسرائیلی حملے نے واضح کر دیا ہے کہ کسی ایک ملک کی سلامتی خطرے میں پڑنے سے پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے میں خلیجی ریاستوں کے لیے لازمی ہو گیا ہے کہ وہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، اپنی سلامتی کی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
