ریاض: سعودی عرب کا الباحہ ریجن اپنی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کے باعث دنیا بھر میں شہرت پا رہا ہے۔ سرسبز پہاڑ، تاریخی دیہات اور قدیم طرزِ تعمیر اسے ایک منفرد سیاحتی منزل بناتے ہیں۔ انہی ورثہ مقامات میں "العضہ گاؤں” نمایاں ہے، جو بیضان سینٹر کے شمال مشرق میں السراة پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ یہاں سے وادیاں، تھامہ کے وسیع میدان اور الباحہ پاس روڈ کا دلکش منظر نظر آتا ہے۔
مقامی رہائشی محمد بن صالح الدھری کے مطابق، ایک وقت تھا جب گاؤں میں دس سے زائد خاندان آباد تھے۔ انہوں نے پتھروں کے مکانات تعمیر کیے، کنویں کھودے اور زراعت و مویشی بانی کو ذریعہ معاش بنایا۔ آج بھی بیس سے زائد مکانات موجود ہیں جن کی اونچائی ایک سے تین منزلہ ہے۔ یہ مکانات علاقے کی روایتی طرزِ تعمیر کو ظاہر کرتے ہیں اور یہاں کے مکینوں کی تاریخ کو زندہ رکھتے ہیں۔
الدھری نے بتایا یہ مکانات ہمارے آباؤ اجداد کی سماجی اور معاشی زندگی کی جھلک ہیں۔ یہ زمین سے وابستگی اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کی تخلیقی صلاحیت کی واضح مثال ہیں۔
ماضی میں العضہ گاؤں تھامہ سے آنے والے مسافروں کی گزرگاہ ہوا کرتا تھا جو الباحہ کے مشہور بازاروں جیسے الخمیس مارکیٹ کی طرف جاتے تھے۔ گاؤں کے لوگ مسافروں کا گرمجوشی سے استقبال کرتے، انہیں کھانا کھلاتے اور مہمان نوازی کی روایات کو برقرار رکھتے۔
رہائشی محمد البیضانی نے بتایا کہ گاؤں سے السراة پہاڑوں اور تھامہ کے میدانوں کا منظر انتہائی دلکش ہوتا ہے۔ خشک موسم میں لوگ بارش کے پانی، چشموں اور ایک بڑے تالاب پر انحصار کرتے تھے۔ آج بھی گاؤں تک براہ راست گاڑی کے ذریعے رسائی ممکن نہیں بلکہ چھ کلو میٹر طویل پیدل راستے سے جانا پڑتا ہے، جو ہائیکنگ کے شوقین سیاحوں کے لیے پرکشش تجربہ ہے۔
الباحہ ریجن میں 194 سے زیادہ آثارِ قدیمہ اور ثقافتی مقامات ہیں، جن میں 72 ورثہ دیہات شامل ہیں۔ یہ دیہات نہ صرف تاریخ کے محافظ ہیں بلکہ سعودی عرب کے قومی سیاحتی وژن اور وژن 2030 کے تحت سیاحت اور معیشت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ مقامات دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہاں منعقد ہونے والے ورثہ اور ثقافتی فیسٹیول سعودی عرب کی تاریخ، مہمان نوازی اور فنِ تعمیر کو اجاگر کرتے ہیں، جو سیاحوں کو ایک ناقابلِ فراموش تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
