یکم اکتوبر دنیا بھر میں ’’انٹرنیشنل کافی ڈے‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک مشروب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مخصوص نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی سفر، تہذیبی رشتوں اور عالمی معیشت میں اس کی بے پناہ اہمیت کا اعتراف ہے۔ کافی آج صرف صبح کی تازگی بخشنے والا مشروب نہیں رہا، بلکہ یہ کروڑوں انسانوں کے روزمرہ معمولات، میل جول، مہمان نوازی اور معیشتی سرگرمیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً سو ارب ڈالر سے زائد کی سالانہ معیشت کافی کی کاشت، پیداوار اور تجارت پر استوار ہے، اور اسی پس منظر میں یہ دن پوری دنیا میں یکساں جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔
کافی کی ابتداء کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں لیکن زیادہ تر تاریخ دان اس کی جڑیں افریقہ کے ملک ایتھوپیا سے جوڑتے ہیں۔ ایک مشہور قصہ نویں صدی کے ایک چرواہے کالی دی کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے، جس نے دیکھا کہ اس کی بکریاں سرخ بیریاں کھانے کے بعد غیر معمولی طور پر چاق و چوبند ہو گئیں۔ یہ بیریاں دراصل وہی کافی کے پھل تھے جنہوں نے رفتہ رفتہ انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے بعد یمن کے شہر مُخا (Mocha) میں کافی کی تجارت شروع ہوئی اور پھر پندرہویں صدی میں یہ مشروب مصر، حجاز، شام اور سلطنتِ عثمانیہ تک جا پہنچا۔
سترہویں صدی تک یہ وینس اور دیگر یورپی بندرگاہوں کے ذریعے یورپ میں مقبول ہو گیا، جہاں یہ قہوہ خانوں اور علمی و فکری نشستوں کا لازمی جزو بن گیا۔ بعد ازاں نوآبادیاتی طاقتوں نے اسے ایشیا اور امریکا تک پہنچایا اور بڑے پیمانے پر کافی کے کھیت لگائے گئے۔ اسی پھیلاؤ نے کافی کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ تجارت ہونے والی زرعی اجناس میں شامل کر دیا۔
اس عالمی سفر کے باوجود کافی کی اصل پہچان آج بھی عرب دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔ سعودی عرب میں کافی کو صرف ایک مشروب نہیں بلکہ تہذیب، روایت اور قومی شناخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں روایتی سعودی قہوہ، جسے مقامی طور پر ’’قہوہ‘‘ یا ’’سعودی کافی‘‘ کہا جاتا ہے، خاص طور پر ہلکی بھونی ہوئی عربیکا کافی پر مشتمل ہوتا ہے جس میں الائچی، زعفران اور کبھی کبھار لونگ یا دار چینی شامل کی جاتی ہے۔ یہ قہوہ چھوٹے فن جان پیالوں میں پیش کیا جاتا ہے اور اکثر کھجور یا میٹھے کے ساتھ نوش کیا جاتا ہے۔
مہمان کے سامنے کافی پیش کرنا محض ایک رسم نہیں بلکہ عزت، احترام اور خلوص کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2022ء میں یونیسکو نے سعودی عرب کے ’’خولانی کافی‘‘ کے کاشتکاری سے متعلق علم اور روایات کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔
سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے خاص طور پر جازان، عسیر اور الباحہ کافی کی کاشت کے لئے مشہور ہیں۔ ان پہاڑی خطوں کی بلندی 800 سے 2000 میٹر تک ہے جہاں کا موسم اور فضا کافی کے پودے کے لئے نہایت موزوں ہیں۔
خولانی کافی اپنی خوشبو، ذائقے اور چمکدار دانی کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتی ہے۔ حالیہ اندازوں کے مطابق مملکت میں تقریباً چار لاکھ سے زائد کافی کے پودے موجود ہیں جو ڈھائی ہزار سے زیادہ کھیتوں میں لگائے گئے ہیں۔ سالانہ پیداوار آٹھ سو ٹن سے بڑھ کر بعض اعداد و شمار کے مطابق 1800 ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم چھوٹے کسانوں کو بعض مسائل کا سامنا ہے، جیسے کہ پانی کی کمی، پرانے درخت، جدید زرعی آلات کی کمی اور موسمی تغیرات، جو پیداوار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے سعودی حکومت نے کافی کے شعبے کو قومی معیشت کا ایک مضبوط ستون بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز کیا ہے۔ 2022ء میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے ’’سعودی کافی کمپنی‘‘ کے قیام کا اعلان کیا جس کا دس سالہ منصوبہ 320 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف پیداوار کو کئی گنا بڑھانا ہے بلکہ سعودی کافی کو عالمی سطح پر ایک منفرد برانڈ کے طور پر متعارف کرانا بھی ہے۔ حکومت کا ہدف اگلے دس برس میں ایک کروڑ نئے پودے لگانا اور جدید پروسیسنگ یونٹس کے ذریعے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
الباحہ میں ’’کافی سٹی‘‘ کے نام سے ایک وسیع منصوبہ جاری ہے جہاں پندرہ لاکھ مربع میٹر سے زائد رقبے پر پانچ لاکھ کافی کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔
یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی کافی فارمنگ سٹی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور سالانہ پیداوار دس ہزار ٹن سے زیادہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کو تربیت دینے، پانی کے بہتر انتظام، جدید کاشتکاری کے طریقوں اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب میں 2022ء کو ’’سعودی کافی کا سال‘‘ قرار دیا گیا تاکہ عوامی سطح پر اس مشروب کی ثقافتی اور معیشتی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے تعاون سے دیہی ترقی کے کئی منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں تاکہ چھوٹے کسان اپنی پیداوار کو عالمی معیار تک پہنچا سکیں۔
جب دنیا بھر میں انٹرنیشنل کافی ڈے منایا جاتا ہے تو سعودی عرب کی یہ کوششیں اس دن کو مزید معنی خیز بنا دیتی ہیں۔ ایک طرف یہ روایت اور مہمان نوازی کی علامت ہے تو دوسری طرف زرعی ترقی اور قومی معیشت میں ایک نئے دور کا آغاز۔
سعودی عرب نہ صرف اپنی ثقافتی پہچان کو دنیا بھر میں اجاگر کر رہا ہے بلکہ مستقبل میں عالمی کافی مارکیٹ میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ آج سعودی کافی کو صرف عرب قہوہ کے طور پر نہیں بلکہ ’’سعودی کافی‘‘ کے نام سے ایک الگ شناخت دی جا رہی ہے، جو اس کی روایتی جڑوں اور جدید اہداف دونوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ عالمی دن سعودی عرب کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی کافی کی کہانی دنیا کو سنائے۔ یہ کہانی صرف ایک مشروب کی نہیں بلکہ صدیوں کے ورثے، کسانوں کی محنت، مہمان نوازی کی روایت اور معیشت کی نئی راہوں کی کہانی ہے۔ ہر پیالی قہوہ میں تاریخ کا ایک حصہ چھپا ہوا ہے اور ہر گھونٹ میں ایک قوم کی ثقافت اور مستقبل کی جھلک محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایتھوپیا کی وادیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر آج سعودی پہاڑوں میں ایک نئی زندگی پا رہا ہے، جہاں کافی صرف زمین سے اگنے والا پودا نہیں بلکہ شناخت، فخر اور ترقی کا استعارہ ہے۔
