ریاض:صرف 23 سال کی عمر میں سعودی ڈویلپر کدی الیحیٰ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف تفریح نہیں بلکہ تعلیم اور شعور بیداری کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ان کی تخلیق کردہ ویڈیو گیم ‘اوربیٹل سویپر’ نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور انہیں ایپل کے معروف ’ڈبلیو ڈبلیو ڈی سی‘ گلوبل اسٹوڈنٹ چیلنج کے فاتحین میں جگہ دلوائی ایک ایسا اعزاز جو مملکت کے صرف چند باصلاحیت افراد کو نصیب ہوا ہے۔
ریاض سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان ڈویلپر کی کامیابی ان کی تخلیقی سوچ، استقامت اور تعلیم کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ ‘اوربیٹل سویپر’ میں کھلاڑیوں کو زمین کے گرد مدار میں موجود خلائی ملبہ جمع کرنا ہوتا ہے، تاکہ وہ خلا کی آلودگی کے بڑھتے مسئلے سے آگاہ ہو سکیں۔
کدی الیحیٰ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں گیم کا تصور اس وقت آیا جب انہوں نے محسوس کیا کہ زمین کی آلودگی پر تو اکثر بات ہوتی ہے لیکن خلائی ملبے پر نہیں۔ انہوں نے کہا، میں چاہتی تھی کہ ایک ایسا انٹرایکٹو گیم تیار کروں جو لوگوں کو خلا اور ماحولیاتی پائیداری دونوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے۔ میرا مقصد تعلیم اور تفریح کو ایک ساتھ لانا تھا تاکہ سیکھنے کا عمل دلچسپ بنے۔
کدی نے بتایا کہ ان کا ڈبلیو ڈبلیو ڈی سی تک کا سفر آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کئی ماہ ایپل ڈویلپر اکیڈمی میں گزارے، جہاں انہوں نے ایپ ڈیزائن، یوزر ایکسپیرینس، ٹیم ورک اور کاروباری سوچ پر مہارت حاصل کی۔ ان کے مطابق، “اکیڈمی نے میری سوچ بدل دی، میں نے سیکھا کہ حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے والے خیالات کیسے تخلیق کیے جائیں اور انہیں عملی شکل کیسے دی جائے۔
الیحیٰ کا ماننا ہے کہ گیمز محض کھیل نہیں بلکہ پیچیدہ سائنسی اور سماجی تصورات کو آسان بنانے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق، روایتی تعلیم معلومات دیتی ہے، مگر گیمز انسان کو تجربہ کراتی ہیں وہ فیصلے کرتا ہے، نتائج دیکھتا ہے اور خود سیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مستقبل انٹرایکٹو اسٹوری ٹیلنگ میں ہے، کیونکہ جب لوگ کسی تجربے کو محسوس کرتے ہیں تو وہ اسے گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، گیمز ہمدردی، ذمہ داری اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں یہ عالمی مسائل کے حل کے لیے طاقتور اوزار ہیں۔
کدی الیحیٰ کا نام اب سعودی عرب کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور گیمنگ انڈسٹری میں ایک نئی علامت کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہامیرا پیغام نوجوان سعودی ڈویلپرز کے لیے سادہ ہےاپنے خیالات پر یقین رکھیں۔ ہر جدت تجسس اور جرات سے جنم لیتی ہے۔ ٹیکنالوجی صرف کوڈنگ نہیں، بلکہ زندگیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کا ٹیکنالوجی ماحول تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور یہ بڑا خواب دیکھنے کا بہترین وقت ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں جو آپ کو متاثر کریں اور ہمیشہ سیکھتے رہیں۔ آپ کی تخلیقی صلاحیتیں مستقبل کی سعودی اختراعات کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
کدی الیحیٰ کی کامیابی نہ صرف ایک انفرادی فتح ہے بلکہ سعودی خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور نوجوانوں کی تخلیقی توانائی کی علامت بھی ہےایک ایسا پیغام جو آنے والی نسلوں کے لیے امید، جرات اور جدت کا استعارہ بن چکا ہے۔
