ریاض: سعودی عرب نے گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے ایک انقلابی قانون نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مالکان کو کسی بھی صورت میں اپنے گھریلو ملازمین سے بھرتی، اقامہ، ورک پرمٹ یا پیشہ تبدیلی جیسی کسی فیس کے تقاضے سے سختی سے روک دیا گیا ہے۔ وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی کے اعلان کے بعد یہ فیصلہ انسانی وقار اور انصاف پر مبنی روزگار کے نظام کی جانب ایک تاریخی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
سعودی گزٹ کے مطابق، اگر کوئی آجر اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے 20 ہزار ریال (تقریباً 53 سو امریکی ڈالر) جرمانہ اور تین سال تک گھریلو ملازمین رکھنے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں پابندی مستقل بھی ہو سکتی ہے۔
یہ قانون وزارت کی جانب سے جاری کردہ گھریلو ملازمین کے حقوق و فرائض کی گائیڈ لائن کا حصہ ہے، جس کا مقصد گھریلو شعبے میں انصاف، تحفظ اور عزتِ نفس کو فروغ دینا ہے۔
نئے قانون کے مطابق گھریلو ملازمین، جیسے ڈرائیور، نرس، باورچی، مالی، ذاتی معاون اور فزیوتھراپسٹ وغیرہ، اب واضح قانونی تحفظ کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ انہیں ہر ہفتے ایک دن کی چھٹی، روزانہ آٹھ گھنٹے آرام، دو سال بعد ایک ماہ کی تنخواہ سمیت چھٹی اور واپسی کا ہوائی ٹکٹ، جبکہ چار سال مکمل ہونے پر ایک ماہ کی تنخواہ بطور اختتامی معاوضہ دیا جائے گا۔ مزید برآں، طبی تصدیق کی بنیاد پر سالانہ 30 دن تک بیماری کی چھٹی بھی فراہم کی جائے گی۔
ایک اور نمایاں پیشرفت یہ ہے کہ اب مالکان کسی بھی ملازم کا پاسپورٹ یا اقامہ ضبط نہیں کر سکیں گے۔ انہیں قانونی دستاویزات کی تمام فیس خود ادا کرنی ہوگی اور ملازمین کو اپنے خاندان سے رابطے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
قانون میں گھریلو ملازمین کی کچھ ذمہ داریاں بھی واضح کی گئی ہیں،مثلاً گھر کے رازوں کی حفاظت، اسلامی اقدار کا احترام اور آجر کے املاک کا خیال رکھنا۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی پر ملازمین کو دو ہزار ریال جرمانہ یا مستقل پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سعودی عرب میں اس وقت دو ملین سے زائد پاکستانیوں سمیت بھارت، فلپائن، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ایتھوپیا کے لاکھوں گھریلو ورکرز کام کر رہے ہیں۔ یہ قانون ان سب کے لیے تحفظ اور وقار کا نیا دور ثابت ہوگا۔ یہ فیصلہ سعودی وژن 2030 کے تحت جاری سماجی و معاشی اصلاحات کی ایک بڑی مثال ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق، یہ قدم صرف ایک قانونی اصلاح نہیں بلکہ انسانیت اور انصاف کا بیان ہے، جو خلیجی دنیا میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی نئی بنیاد رکھتا ہے
