سعودی عرب کی جانب سے ایک بار پھر انسانیت اور ہمدردی کی شاندار مثال قائم کی گئی جب کنگ سلمان ہیومینیٹرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) نے فلسطینی بچی میرا سہیب عقاد کے لیے دل کے پیچیدہ اور نایاب مرض کی کامیاب سرجری کا انتظام کیا۔ یہ آپریشن ریاض میں وزارت نیشنل گارڈ کے تحت قائم کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں انجام دیا گیا، جو سعودی عرب کی ان عالمی انسانی خدمات میں سے ایک نمایاں اقدام ہے جو سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانیت کی خدمت کو مقصد بنائے ہوئے ہیں۔
یہ خصوصی علاج خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی براہِ راست ہدایت پر عمل میں لایا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک بار پھر دنیا بھر کے مستحق اور ضرورت مند افراد کے لیے اپنے جذبۂ انسانیت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ہدایت دی کہ بچی کا علاج مکمل طور پر سعودی حکومت کے خرچ پر کیا جائے تاکہ اسے ایک نئی زندگی کا موقع مل سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق میرا کی حالت نہایت نازک تھی، کیونکہ وہ پیدائشی طور پر دل کے شدید نقص میں مبتلا تھی۔ سعودی عرب کے ماہر اور تجربہ کار سرجنز، کارڈیالوجسٹ، اینستھیزیا ماہرین، اور پیڈیاٹرک کیئر ٹیم نے مل کر کئی گھنٹوں پر مشتمل یہ پیچیدہ آپریشن مکمل کیا۔ آپریشن انتہائی جدید طبی آلات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے انجام دیا گیا، جس میں میرا کے دل کے متاثرہ حصے کو درست کر کے اس کی دھڑکن کو معمول پر لایا گیا۔
آپریشن کے بعد بچی کو انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں منتقل کیا گیا جہاں کئی دن تک اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی گئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ میرا نے علاج پر حیرت انگیز طور پر تیز ردعمل ظاہر کیا اور رفتہ رفتہ اس کی صحت میں نمایاں بہتری آتی چلی گئی۔ مکمل صحتیابی کے بعد اسے اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، اور روانگی سے قبل اس کی تفصیلی جانچ اور فالو اپ طبی معائنے بھی کیے گئے تاکہ مستقبل میں کسی پیچیدگی کا خطرہ باقی نہ رہے۔
میرا کے والدین نے سعودی قیادت اور وہاں کے طبی عملے کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی بڑی سرجری ہمارے لیے ممکن ہوگی، لیکن سعودی عرب کی دردمند قیادت نے نہ صرف امید دی بلکہ زندگی واپس لوٹا دی۔” انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا جذبۂ انسانیت مذہب یا سرحدوں سے بالاتر ہے، اور اس نے ایک بار پھر دنیا کو دکھایا ہے کہ حقیقی قیادت صرف اقتدار سے نہیں بلکہ خدمت سے ظاہر ہوتی ہے۔
میرا کی والدہ نے بتایا کہ سعودی طبی عملے نے جس ہمدردی اور مہارت کے ساتھ ان کی بچی کا علاج کیا، وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ "ہمیں لگا کہ ہم اپنے گھر میں ہیں، ہر نرس اور ڈاکٹر نے بچی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جیسے وہ ان کی اپنی ہو۔” انہوں نے کہا کہ کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کا عملہ نہ صرف تکنیکی طور پر ماہر ہے بلکہ دل سے انسانیت کی خدمت میں یقین رکھتا ہے۔
کنگ سلمان ہیومینیٹرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی یہ کاوش اس وسیع تر فلاحی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو دنیا کے مختلف خطوں میں بحرانوں سے دوچار لوگوں کی مدد کے لیے جاری ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا ہے بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں مصنوعی اعضاء، ادویات، اور ایمرجنسی طبی امداد بھی پہنچاتا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران KSrelief نے دنیا بھر میں درجنوں ممالک میں ایسے ہی انسان دوست منصوبے مکمل کیے ہیں، جن میں یمن، سوڈان، شام اور فلسطین جیسے خطے نمایاں ہیں۔ یہ منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب عالمی برادری میں ایک ذمہ دار اور فعال کردار ادا کر رہا ہے، جس کا مقصد انسانیت کی خدمت اور ضرورت مندوں کی مدد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میرا کی کامیاب سرجری نہ صرف سعودی عرب کے اعلیٰ معیارِ طب کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ مملکت صرف اپنے شہریوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک شفا خانہ ہے۔ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب جہاں سائنسی و معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وہیں انسانی ہمدردی کے شعبے میں بھی ایک عالمی مثال بن کر ابھرا ہے۔
یہ کامیاب آپریشن سعودی قیادت کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جو انسانیت کے احترام، ضرورت مندوں کی مدد، اور مصیبت میں گھری اقوام کی بحالی پر مبنی ہے۔ میرا سہیب عقاد کی بحالی نہ صرف ایک بچی کی زندگی کی جیت ہے بلکہ یہ سعودی عرب کے اس جذبے کی جیت بھی ہے جو دلوں کو جوڑنے اور انسانیت کو مضبوط بنانے کے لیے دنیا بھر میں جاری ہے۔
