شمال مغربی سعودی عرب کے سرسبز اور زرخیز خطے تبوک میں اس سال کے زیتون کے موسمِ برداشت کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں مختلف کارخانوں اور زیتون پریسوں نے تازہ چنے گئے زیتونوں کی وصولی شروع کر دی ہے۔ خطے کے باغات میں لگے ڈیڑھ ملین سے زیادہ زیتون کے درخت نہ صرف تبوک کی زراعتی شناخت کی علامت بن چکے ہیں بلکہ یہ پورے مملکت میں غذائی پیداوار اور دیہی معیشت کو فروغ دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے مقامی دفتر کے ماہرین کے مطابق اس سال زیتون کی پیداوار غیر معمولی حد تک زیادہ متوقع ہے، اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ 94 ہزار ٹن زیتون حاصل ہوں گے جن سے تقریباً 12 ہزار 250 ٹن اعلیٰ معیار کا زیتون کا تیل نکالا جائے گا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید مستحکم کرتے ہیں کہ تبوک سعودی عرب کے نمایاں ترین زیتون پیدا کرنے والے علاقوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ تبوک کی کامیابی کا راز اس کے مخصوص جغرافیائی محلِ وقوع اور معتدل آب و ہوا میں پوشیدہ ہے۔ یہ علاقہ بحیرہ روم کے موسمی حالات سے خاصی مشابہت رکھتا ہے، جو دنیا بھر میں زیتون کی کاشت کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ تبوک میں ہلکی سردی، کم نمی، اور معدنیات سے بھرپور زرخیز مٹی کے امتزاج نے یہاں زیتون کے درختوں کی افزائش کو نہایت سازگار بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی کاشتکار مختلف اقسام کے زیتون اُگا رہے ہیں جو نہ صرف زیادہ تیل پیدا کرتے ہیں بلکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی بے حد قیمتی ہیں۔
تبوک میں زیتون کی زراعت کا فروغ دراصل مملکت کے وسیع زرعی وژن کا حصہ ہے۔ سعودی وژن 2030 کے تحت حکومت نے زرعی تنوع، خوراک میں خود کفالت، اور پائیدار کھیتی باڑی کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں زیتون کو ایک ترجیحی فصل کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، اور کاشتکاروں کو جدید آبپاشی نظام، نامیاتی کھادوں کے استعمال، اور خودکار پریسنگ ٹیکنالوجی کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف تیل کے معیار میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پانی کے استعمال میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے، جو مملکت کے ماحولیاتی مقاصد کے عین مطابق ہے۔
تبوک کے زیتون کے تیل نے اپنے خالص ذائقے اور اعلیٰ معیار کی بدولت نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی اپنی پہچان بنا لی ہے۔ خطے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے زیتون پروڈیوسرز اب مقامی اور بین الاقوامی نمائشوں میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ سعودی زیتون کے تیل کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکے۔ نامیاتی اور کولڈ پریسڈ زیتون کے تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ نے مقامی کاروباری حضرات کو نئے برانڈز لانچ کرنے کی ترغیب دی ہے، جس سے دیہی روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور زرعی معیشت میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ مل رہا ہے۔
زیتون کے علاوہ تبوک خطہ دیگر پھلوں کی پیداوار میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں انگور، خوبانی، آڑو، اسٹرابیری، آم، نارنگی اور کینو جیسی کئی فصلیں بھی بڑی کامیابی سے اُگائی جا رہی ہیں۔ ان متنوع فصلوں کی اعلیٰ پیداوار نے خطے کی معیشت کو نئی زندگی دی ہے اور تبوک کو ایک ایسا زرعی مرکز بنا دیا ہے جو نہ صرف پیداوار کے لحاظ سے بلکہ معیار کے اعتبار سے بھی نمایاں ہے۔ مقامی کسان اب زرعی سیاحت کے منصوبے بھی متعارف کروا رہے ہیں جن کے ذریعے زائرین زیتون چننے، تیل نکالنے کے روایتی طریقوں اور دیہی زندگی کے تجربات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدامات مقامی ثقافت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معیشت میں بھی ایک نیا پہلو شامل کر رہے ہیں۔
وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت مقامی کاشتکاروں کی رہنمائی میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ کسانوں کو تربیتی پروگراموں کے ذریعے جدید کاشتکاری، کیڑوں سے تحفظ، درختوں کی تراش خراش، اور مٹی کے تحفظ کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، تحقیقی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں زیتون کی اقسام پر تجربات کیے جاتے ہیں تاکہ پیداوار اور تیل کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے زرعی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی معاونت اور تکنیکی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
تبوک کے زیتون پریسوں میں اس موسم کے آغاز کے ساتھ ہی ایک منفرد منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کارخانوں میں زیتون کے دانے پسنے کی آوازیں اور تازہ تیل کی خوشبو ایک جشن کی کیفیت پیدا کر رہی ہیں۔ کسان، مزدور اور کاروباری سب اس سال کی بھرپور پیداوار پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہر بوتل میں بند تبوک کا زیتون کا تیل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ سعودی زمین کی محنت، عزم اور ترقی کی علامت ہے۔
یہ زیتون کا موسم اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مملکت نے زراعت کے روایتی طریقوں کو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔ تبوک کے یہ زیتون کے باغات اب محض فصلیں نہیں بلکہ ایک ایسی کامیابی کی داستان ہیں جو سعودی وژن 2030 کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی گواہی دے رہی ہے — ایک ایسا خواب جس میں پائیدار ترقی، خود کفالت اور فطرت کے احترام کا حسین امتزاج موجود ہے۔
تبوک کی سرزمین آج صرف زیتون کے درختوں کی سبزی سے نہیں بلکہ ایک نئی امید کی روشنی سے بھی جگمگا رہی ہے، جو مملکت کے لیے زراعت میں پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
