مدینہ منورہ: سعودی عرب کی بلدیہ نے ایک نیا ماحول دوست منصوبہ گرین سٹی انیشی ایٹو شروع کیا ہے جس کا مقصد شہر میں سبزہ بڑھانا، فضائی آلودگی کو کم کرنا اور پائیدار ماحولیاتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ سعودی گرین انیشی ایٹو اور ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جو سعودی عرب کی مجموعی ماحولیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے
بلدیہ کے مطابق اس منصوبے کےتحت مدینہ منورہ میں 21 لاکھ (2.1 ملین) درخت لگائے جائیں گے تاکہ شہر میں سبز رقبہ بڑھایاجا سکے،فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے،درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے اورشہری منظر کومزید خوبصورت بنایا جا سکے۔یہ درخت سڑکوں، پارکوں اور رہائشی علاقوں کے اطراف میں لگائے جائیں گے، جس سے شہر کی فضائی اور ماحولیاتی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔
اس منصوبے میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سمارٹ درخت ٹیگنگ سسٹم کا استعمال کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے درختوں کی افزائش اور صحت کی نگرانی کی جا سکے گی۔ اس سسٹم کی مدد سے درختوں کی دیکھ بھال اور ان کی ترقی کی نگرانی ممکن ہوگی، جو اس منصوبے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بلدیہ نے شہریوں کو ماحولیاتی رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی ہے تاکہ یہ منصوبہ ایک اجتماعی کوشش بن سکے۔ اس سے مدینہ منورہ کے باشندوں کو بھی ماحول کی بہتری میں براہ راست شامل ہونے کا موقع ملے گا، جس سے شہر کی ماحولیاتی حالت میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
یہ منصوبہ سعودی ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب کی ماحولیاتی حکمت عملی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وزیرِ بلدیات نے اس اقدام کو مدینہ کو ایک مثالی ماحولیاتی شہر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے، جس میں اسلامی ورثے کے ساتھ ساتھ جدید شہری معیار اور ماحولیاتی استحکام کا توازن برقرار رکھا جائے گا
بلدیہ کا کہنا ہے کہ یہ "گرین سٹی انیشی ایٹو” مدینہ منورہ کو ایک سرسبز، صاف ستھرا اور ماحول دوست شہر بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جو عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کی مثال بنے گ
