اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے ملک کے غیر متزلزل اور تاریخی موقف کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ مل کر "دو ریاستی حل” کانفرنس کی قیادت کی ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتی ہے، جو 1967 کی سرحدوں اور مشرقی القدس کو دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق اور آباد کاری پر اسرائیلی خودمختاری کو قانونی حیثیت دینے والے دو مسودہ قوانین کی منظوری کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
سعودی نمائندے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اب اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی اور اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر کیے جانے والے تمام حملے، توسیع پسندانہ منصوبے، اور آباد کاری کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عالمی ادارے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مملکت سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کے لیے دو ریاستی حل کے نفاذ کو واحد قابلِ قبول راستہ سمجھتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی پالیسی امن، انصاف اور بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی ہے، اور مملکت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا، جب تک کہ ان کی آزاد، خودمختار ریاست کا قیام ممکن نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل نہ صرف فلسطینیوں کے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کا واحد راستہ ہے بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن اور سیاسی توازن کے لیے بنیاد بھی فراہم کرے گا۔
