ریاض: سعودی عرب نے صحت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب برپا کرتے ہوئے ذیابیطس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کیا ہے، جو اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا مرکز ہے جہاں ذیابیطس کے مریضوں کے حیاتیاتی اشاریے 24 گھنٹے ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے مانیٹر کیے جائیں گے۔ وزیرِ صحت فہد بن عبدالرحمن الجلاجل نے ریاض انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایکزیبیشن سینٹر میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں بتایا کہ یہ مرکز پیشگی نگہداشت کے لیے سعودی عرب کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مرکز میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مریضوں کی صحت کی مسلسل نگرانی، طبی ٹیموں کو بروقت مداخلت کی سہولت، اور مریضوں کے لیے معاونت فراہم کرنے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ اس سے نہ صرف مرض کی پیچیدگیوں میں کمی آئے گی بلکہ صحتی ردِعمل کی رفتار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ وزارتِ صحت کے اہلکاروں کے مطابق یہ مرکز ملک کے تمام علاقوں میں ذیابیطس کے مریضوں کے ڈیٹا کی نگرانی کرے گا، جس سے صحت کے نظام میں شفافیت اور مؤثریت آئے گی۔
یہ اقدام سعودی عرب کے وژن 2030 کی صحتی حکمت عملی کے تحت پیشگی نگہداشت اور جدید علاج کے فروغ کے عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ مرکز کی بدولت مریض اپنے معالجین سے براہِ راست رابطے میں رہ سکیں گے، جس سے علاج کی پیچیدگیوں کو کم کرنے اور مریض کی زندگی کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
ذیابیطس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس کے ذریعے مریضوں کی روزانہ کی صحت کی معلومات، جیسے خون میں شوگر کی سطح، دل کی دھڑکن اور دیگر حیاتیاتی اشاریے، ریئل ٹائم میں ریکارڈ اور تجزیہ کیے جائیں گے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرکز نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کی زندگی کو بہتر بنائے گا بلکہ دیگر بیماریوں کی نگرانی کے لیے بھی ماڈل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزارتِ صحت نے اس مرکز کو مریضوں کے لیے سہولت، معالجین کے لیے پیشہ ورانہ حمایت، اور صحت کے نظام میں جدیدیت لانے کے ایک اہم سنگ میل کے طور پر پیش کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس مرکز کے آغاز سے سعودی عرب میں ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار میں واضح بہتری آئے گی اور عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں ایک نئے معیار کا تعین ہوگا۔
